0
Thursday 4 Feb 2021 22:52

پی ڈی ایم کا حکومت کیخلاف 26 مارچ کو لانگ مارچ کا اعلان

پی ڈی ایم کا حکومت کیخلاف 26 مارچ کو لانگ مارچ کا اعلان
اسلام ٹائمز۔ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے 26 مارچ کو حکومت کے خلاف لانگ مارچ اور سینیٹ الیکشن مشترکہ طور پر لڑنے کا اعلان کر دیا۔ حکومت کے خلاف تحریک کی آئندہ حکمت عملی کا جائزہ لینے کے لیے پی ڈی ایم کے کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے اجلاس کے بعد سربراہ پی ڈی ایم نے حکومت کے خلاف 26 مارچ کو لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اجلاس کے فیصلوں سے متعلق میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سینیٹ انتخابات کے لیے پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں مشترکہ امیدوار لائیں گی۔ پی ڈی ایم سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے کروانے کے لیے حکومت کی مجوزہ ترمیم کو مسترد کرتی ہے۔ ایوان کی کارروائی چلانے میں حکومت سے تعاون نہیں کیا جائے گا۔ براڈ شیٹ کے معاملے پر جسٹس (ر) شیخ عظمت کمیشن کی تشکیل کو بھی مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد اور اسمبلیوں سے استعفیٰ کا فیصلہ لانگ مارچ کے بعد ہوگا۔ پی ڈی ایم 26 مارچ کو اسلام آباد کی طرف مارچ کرے گی۔

قبل ازیں اجلاس میں اپوزیشن کی بڑی جماعتوں مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی حکومت گرانے کے لیے اپنی اپنی حکمت عملی پر اصرار کرتی رہیں۔ نون لیگ کی جانب سے استعفوں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کی تجویز کے حق میں دلائل پیش کیے گئے۔ اسلام آباد میں پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کا سربراہی اجلاس میں مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر جماعتوں کے رہنماوں نے شرکت کی۔ آج ہونے والے اجلاس سے قبل بھی گذشتہ شب اپوزیشن جماعتوں کے مابین مشاورت کا سلسلہ جاری رہا۔ گذشتہ شب سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو فون کرکے سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے حکومت مخالف تحریک کے حوالے سے مشاورت کی اور نواز شریف نے مولانا فضل الرحمن کی طرف سے پیش کردہ تجاویز سے اتفاق کیا تھا۔ نواز شریف نے لانگ مارچ، استعفوں اور دھرنے کی مکمل حمایت کی یقین دہانی بھی کروائی۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے پارٹی ترجمان مریم اورنگزیب اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان سے ملاقات  بھی کی تھی، جس میں سیاسی امور پر مشاورت کی گئی۔
خبر کا کوڈ : 914361
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش