0
Friday 19 Feb 2021 20:40

اولیاء اللہ کے مزارات پر حملہ کرنیوالوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، علامہ باقر زیدی

اولیاء اللہ کے مزارات پر حملہ کرنیوالوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، علامہ باقر زیدی
اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین سندھ کے سیکرٹری جنرل علامہ باقر عباس زیدی نے کہا ہے کہ سانحہ سیہون پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ ترین باب ہے، جب کم و بیش سو زائرین کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا اور متعدد آج تک زخمی ہیں، شہداء کے لواحقین آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ تفصیلات کے مطابق شہدائے سیہون کی چوتھی برسی کے موقع پر درگاہ سیہون شریف میں شہداء کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر علامہ باقر زیدی، علامہ مختار امامی، علی حسین نقوی، مولانا رضا محمد سعیدی و دیگر نے خطاب کیا جبکہ علامہ کلب مہدی، علامہ عطاء حسین چانڈیو، شفقت حسین، ندیم جعفری، اسد کربلائی، عابد کھوکھر، حیدر زیدی سمیت مقامی عزاداروں و ایم ڈبلیو ایم کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔ شرکاء سے خطاب میں علامہ سید باقر عباس زیدی نے کہا کہ چار سال گزرنے کے بعد وارثان شہداء سے کئے گئے حکومتی وعدے پورے نہ ہونا انتہائی افسوسناک امر ہے، جو قابل مذمت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے خوشنما وعدے کرکے عوام کو ہمیشہ دھوکہ دیا ہے، سندھ حکومت کی جانب سے شدت پسندوں کے ساتھ مفاہمانہ رویہ قومی سلامتی اور ملکی امن کے لئے شدید خطرہ ہے، سیاسی مفادات کے حصول اور اپنی حکومت بچانے کے لئے انتہاء پسندوں سے دوستی کا کھیل دانشمندی کا تقاضہ نہیں، حکومت ملک دشمن عناصر کو اپنی صفوں سے دور رکھے، فرقہ واریت میں ملوث افراد کو حکومتی چھتری کا میسر ہونا ملت تشیع کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک و قوم کی تعمیر و ترقی اور امن کو بحال رکھنے میں شیعہ قوم نے ہمیشہ ایک حقیقی محب وطن کا کردار ادا کیا ہے، انصاف کا تقاضہ تو یہ بنتا تھا کہ حکومت ہماری حب الوطنی کو تسلیم کرتے ہوئے حوصلہ افزائی کرتی، لیکن حکومتی ردعمل ہمیشہ اس کے برعکس رہا۔

کانفرنس سے خطاب میں ایم ڈبلیو ایم کے رہنماء علی حسین نقوی کا کہنا تھا کہ درگاہ لعل شہباز قلندر میں خودکش حملہ وہ المناک سانحہ ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا، دہشت گردوں نے ایک ولی اللہ کے مزار کو خاک و خون میں نہلا کر اس بات کا ثبوت دیا کہ ان دہشت گردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، ولی اللہ کے مزارات امن و محبت کے مراکز ہیں، جہاں اتحاد و اخوت اور امن کا درس ملتا ہے، جو مذموم عناصر ملک عبادت گاہوں اور شعائر اللہ کو نشانہ بنا کر ملک میں انتشار اور بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں، ان کے خلاف بھرپور کارروائی کی جانی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ فیصلہ کن مراحل میں داخل ہوچکی ہے، ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے، تاہم دہشت گردوں کے لئے درد دل رکھنے والے سہولت کار اور ان سے فکری ہم آہنگی رکھنے والے عناصر وطن عزیز کے لئے مستقل خطرہ ہیں، ان کے خلاف گھیرا تنگ کرکے ہی ملک و قوم کو امن کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔

کانفرنس سے خطاب میں علامہ مختار امامی کا کہنا تھا کہ سانحہ سہون چار سال گزرنے کے باوجود واقعے کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا، مظلومین کو انصاف دلانے کا مقدمہ اب تک التواء کا شکار ہے، جس سے ملکی عوام میں مایوسی پائی جاتی ہے، فوجی عدالتوں کے قیام کے بعد پوری قوم کو اطمینان تھا کہ اس ملک کو اب دہشت گردی کے عفریت سے چھٹکارا حاصل ہو جائے گا، لیکن بدقسمتی سے چند مخصوص سانحات کے ذمہ داروں کے خلاف فیصلوں کے علاوہ کوئی ایسا قابل ذکر فیصلہ نہ ہوا، جس سے شہداء کے لواحقین کی داد رسی ہوئی ہو، سندھ حکومت کی طرف سے شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کئے گئے وعدے بجا طور پر پورے نہیں کئے گئے۔

علامہ مختار امامی کا کہنا تھا کہ سانحہ سیہون، سانحہ جیکب آباد اور سانحہ شکارپور کی طرح متعدد سانحات کا شکار ہونے والوں کے غمزدہ وارثان آج بھی انصاف کے متلاشی اور حکمرانوں کی بے حسی پر سراپا احتجاج ہیں، حکومت عوام کا خون چوسنے میں مصروف ہے، سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ شہدائے سانحہ سہون کے وارثان سے کئے ہوئے نوکریوں کے وعدوں کو پورا کرے، التواء کا شکار مقدمے کو اپنے منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور سانحہ سیہون میں ملوث دہشتگردوں کو سرعام پھانسی دی جائے، سندھ بھر میں بے گناہ ملت جعفریہ سے تعلق رکھنے والے علماء و عمائدین کے خلاف قائم مقدمات ختم کئے جائیں اور انہیں فورتھ شیڈول سے نکالا جائے، طویل مدت سے جبری گمشدہ شیعہ افراد کو جلد از جلد بازیاب کیا جائے۔
خبر کا کوڈ : 917209
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش