0
Sunday 21 Feb 2021 13:00

کراچی میں فرسٹ ایئر کی طالبہ کا گینگ ریپ، نامزد ملزمان کلیئر قرار

کراچی میں فرسٹ ایئر کی طالبہ کا گینگ ریپ، نامزد ملزمان کلیئر قرار
اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں ایک ہفتہ قبل فرسٹ ایئر کی طالبہ کے کینگ ریپ میں نامزد ملزمان کو پولیس نے کلیئر قرار دے دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی تحقیقات میں اب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جن لڑکوں کو گینگ ریپ کیس میں ملزم نامزد کیا گیا تھا، وہ اس واقعہ میں ملوث نہیں تھے۔ پولیس کے مطابق ڈیجیٹل شواہد کی روشنی سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ لڑکی کے اغوا کے دعوے میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ کراچی کے علاقے گلشن حدید سے تعلق رکھنے والی لڑکی کو رواں ماہ 9 فروری کو اس وقت اغوا کیا گیا تھا، جب وہ کالج جا رہی تھی، بعد ازاں لڑکی وقوعہ کے اگلے روز ڈیفنس پولیس کو سڑک کنارے ملی، جس کے بعد اسٹیل ٹاؤن پولیس کو لڑکی اور حادثے سے متعلق آگاہ کیا گیا۔ واقعہ کے بعد اسٹیل ٹاؤن پولیس نے متاثرہ لڑکی کے والد کی مدعیت میں تین لڑکوں کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ مقدمہ درج کرنے کے چند گھنٹوں میں ہی پولیس نے نامزد ملزمان کو گرفتار کیا۔

واقعہ کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ایسٹ زون کے انسپکٹر جنرل پولیس نعمان صدیقی نے 7 اراکین پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی، جس میں ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر، ایس ایس پی ملیر انویسٹیگیشن ، ایس پی ملیر اور ہائی رینکنگ خاتون افسر شامل تھیں۔ تحقیقاتی ٹیم نے حادثے اور دیگر مقامات کی سی سی ٹی وی ویڈیو حاصل کرلی ہے، جبکہ بازیابی اور اغوا کے مقامات کا بھی فرانزک کیا گیا ہے۔ کیس میں نامزد ملزمان اور لڑکی کا کال ڈیٹا ریکارڈ (سی ڈی آر) بھی حاصل کرلیا گیا ہے۔ پولیس افسر نے مزید بتایا کہ ملزمان کے ڈی این اے بھی فرانزک جانچ کیلئے لیبارٹری کو ارسال کیے گئے، جبکہ اغوا کے مقام پر موجود عینی شاہدین کے بیانات بھی قلمبند کرلیے گئے ہیں۔

پولیس کا اپنے دعویٰ میں کہنا ہے کہ اغوا کے مقام سے حاصل شدہ سی سی ٹی وی ویڈیو اور عینی شاہدین کے مطابق لڑکی کو اغوا نہیں کیا گیا تھا، بلکہ لڑکی خود رکشہ لے کر اپنی مرضی سے گئی تھی۔ پولیس کا یہ بھی کہنا تھا کہ درج کی گئی ایف آئی آر میں لڑکی کے والد کے کہنے پر ان 3 لڑکوں کے ناموں کو شامل کیا گیا تھا، تاہم ڈی این اے رپورٹ کی روشنی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نامزد ملزمان کینگ ریپ میں ملوث نہیں تھے، جبکہ کال ڈیٹا ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد پتا چلا ہے کہ لڑکے واردات والے روز لڑکی کیساتھ رابطے میں نہیں تھے۔ تحقیقاتی ٹیم میں شامل ایک اور افسر کا کہنا تھا کہ حاصل کردہ سی ڈی آر کی روشنی میں ایک اور لڑکے کو حراست میں لیا گیا تھا، تاہم کینگ ریپ میں اس کے ملوث ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ لڑکے کی لڑکی سے دوستی فون پر ہوئی تھی، مگر ان کی کبھی کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔

لڑکی کے کال ڈیٹا سے ایک اور مشکوک شخص کو کراچی کے علاقے ڈیفنس سے گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار شخص پولیس کے ریٹائرڈ افسر کا بیٹا ہے۔ سی ڈی آر کے مطابق لڑکا اغوا والے روز لڑکی سے رابطے میں تھا۔ واقعہ سے متعلق جب متاثرہ لڑکی کے والد سے گفتگو کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ان کا بڑا بھائی معاملے کو دیکھ رہا ہے اور انہیں اب تک ہونے والی تحقیقات سے متعلق کوئی معلومات نہیں۔ دوسری جانب جوڈیشل مجسٹریٹ کے حکم پر کیس میں نامزد تینوں لڑکوں کو 22 فروری تک جوڈیشل ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 917539
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش