0
Tuesday 23 Feb 2021 20:59

سابق عسکری پسندوں کی پاکستانی بیویوں کا سرینگر میں احتجاج

سابق عسکری پسندوں کی پاکستانی بیویوں کا سرینگر میں احتجاج
اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے سابق عسکری پسندوں کی پاکستانی بیویوں نے منگل کے روز یہاں پریس کالونی میں اپنے مطالبات، خاص طور پر سفری دستاویز کی فراہمی کے حق میں ایک بار پھر احتجاج درج کیا۔ احتجاجی خواتین نے پریس کالونی سے تاریخی گھنٹی گھر تک احتجاجی مارچ بھی کیا۔ احتجاجی خواتین کے ساتھ ان کے بچے بھی تھے اور وہ بھی جم کر نعرہ بازی بھی کر رہے تھے۔ نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے مذکورہ خواتین نے کہا کہ ہمارا قصور صرف اتنا ہے کہ ہم نے کشمیری شہریوں سے شادی کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذکورہ نوجوان ایک سرکاری سکیم کے تحت اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ وطن واپس آگئے لیکن یہاں ہمیں اور ہمارے بچوں کو تسلیم نہیں کیا جارہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم 2012ء سے لگاتار اس بات کی دہائیاں دے رہے ہیں کہ ہمیں شہری حقوق فراہم کئے جائیں، ہمیں سفری دستاویزات دئے جائیں تاکہ ہم اپنے والدین سے مل سکیں، اگر آپ ہمیں تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں تو ہمیں واپس ہی بھیج دیں۔


مذکورہ خواتین نے بھارتی حکومت و حکومت پاکستان سے اپیل کی کہ وہ اُن کے مسلے پر ہمدردانہ غور کرکے جلد کوئی فیصلہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ کتنی عجیب بات ہے کہ پاکستانی گلوکار عدنان سامی کو بھارت کی شہریت دیکر بڑے فخر سے اس کا اعلان کیا جاتا ہے لیکن ہم جو یہاں کے شہریوں کی بیویاں ہیں، تسلیم نہیں کیا جارہا ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اُن میں بعض ایسی خواتین بھی ہیں جن کا طلاق ہوا ہے اور وہ اپنے والدین کے ہاں جانا چاہتی ہیں لیکن اُن کے پاس سفری دستاوزات نہیں ہیں اس لئے وہ در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اُن میں سے جو خواتین یہاں آرام سے رہ رہی ہیں اور یہیں رہنا چاہتی ہیں تو ٹھیک ہے لیکن جو یہاں مختلف مصائب و مشکلات میں مبتلاءہیں اُنہیں انسانی بنیادوں پر واپس پاکستان بھیج دیا جانا چاہیئے۔
خبر کا کوڈ : 917957
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش