0
Tuesday 23 Feb 2021 20:38

جہاں عدالتوں کا احترام ختم ہو جائے وہاں خونی انقلاب آتا ہے، جسٹس قاسم خان

جہاں عدالتوں کا احترام ختم ہو جائے وہاں خونی انقلاب آتا ہے، جسٹس قاسم خان
اسلام ٹائمز۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان نے کہا ہے جہاں عدالتوں کا احترام ختم ہو جائے وہاں خونی انقلاب آتا ہے، عوامی اعتماد کیلئے تیزی سے کیسوں کے فیصلے کرنا ہوں گے۔ ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ میں دو ججز کی ریٹائرمنٹ پر ان کے اعزاز میں دیئے گئے ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس قاسم خان کا کہنا تھا اب وقت بدل گیا، لوگوں کو اپنے حقوق کا ادارک ہو گیا ہے، اب لوگ حقوق کیلئے عدالتوں میں آ رہے ہیں، 2016 کے تمام سول مقدمات کا 31 مارچ تک فیصلے کرنے کا حکم درست ہے، اب یہ نہیں ہو سکتا کہ کیس دادا دائر کرے اور پوتا اس کا اختتام کرے، اب تیزی سے انصاف فراہم کرنا ضروری ہے، تیزی سے انصاف کا مقصد کیس بلڈوز کرنا بھی نہیں بلکہ غیر ضروری التواء ختم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جلد انصاف کیلئے ضابطہ دیوانی میں حالیہ ترامیم پر بار سے مشاورت کیلئے تیار ہیں، اچھی تجاویز دیں ترامیم میں شامل کریں گے، مگر اب کیسوں میں غیر ضروری التواء نہیں دیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ سول جج، سیشن ججز کے ریڈر ایک دو ماہ کی تاریخیں ڈال دیں، جو سیشن سول جج تاخیر کا ذمہ دار ہوگا وہ وضاحت کرے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اپنے حلف کا پابند ہوں، عدلیہ میں اچھے ججز کو سامنے لانا ہے، جو عدلیہ کا وقار ثابت ہوں اور پسے لوگوں کو انصاف فراہم کر سکیں، خواہش ہے میڈیا کو باہر نکال کر، کیمرے بند کرا کے وکلاء سے دل کھول کر باتیں کروں مگر مجھ پر کچھ پابندیاں بھی ہیں، موقع ملا تو گفتنی نا گفتنی تمام باتیں تحریر میں لاؤں گا۔ ہائیکورٹ کے سینئر ترین جج محمد امیر بھٹی نے کہا کے ملک کے تمام ادارے آئین میں دیئے گئے اپنے کردار بخوبی ادا کر رہے ہیں۔ سینئر جج ملک شہزاد احمد نے بھی ریٹائر ہونیوالے دو ججز جسٹس طارق عباسی اور جسٹس چودھری مشتاق کی کارگزاری کی تعریف کرتے ہوئے کہا ان کا خلا پورا نہیں ہو سکے گا۔
خبر کا کوڈ : 917978
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش