0
Tuesday 23 Feb 2021 20:43

شہداء کی یاد منانا شہادت سے کم نہیں

شہداء کی یاد منانا شہادت سے کم نہیں
اسلام ٹائمز۔ "آنے والی نسلیں گھروں میں آویزاں تصاویر دیکھ کر یا محفلوں میں تذکرے سن کر اپنے بزرگوں سے استفسار کرسکتی ہیں کہ وہ کون تھے؟ زمانہ انہیں کیوں یاد کرتا ہے؟ محافل میں ان کے حوالے کیوں دیئے جاتے ہیں؟ آخر انہوں نے کیا کیا۔۔۔۔؟" یہ جملے 10 مئی 1992ء کو شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی (رہ) نے ڈاکٹر راشد عباس نقوی اور تسلیم رضا خان سے مخاطب ہو کر کہے۔ قرآن مجید میں خدا ارشاد فرماتا ہے کہ "ھل جزاء الاحسان الا الاحسان" کہ کیا احسان کا بدلہ احسان کے سوا کچھ ہوسکتا ہے۔۔۔؟ یقیناً نہیں. شہداء کسی بھی قوم و ملت کے محسن ہوتے ہیں اور زندہ قومیں اپنے محسنوں کو کبھی فراموش نہیں کرتیں بلکہ ہمہ وقت ان کے احسان کا بدلہ چکانے کی تگ و دو میں ہوتی ہیں۔ شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی (رہ) ارض پاکستان پر اسلام اور انقلاب کی وہ توانا آواز ہیں، جسے 7 مارچ 1995 کو استعمار نے خاموش کروانے کی ناکام کوشش کی، لیکن دشمن اس بات سے بے خبر تھا کہ
چھری کی دھار سے کٹتی نہیں چراغ کی لو
بدن کی موت سے کردار مر نہیں سکتا


اور تاریخ نے گواہی دی کہ دشمن جس کا نام مٹانا چاہتا تھا، وہ کئی سال گزرنے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ و جاوید ہے، اس کی فکر زندہ ہے، اس کے روحانی فرزند زندہ ہیں اور ان کی راہ پہ کام کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی شہادت سے اب تک جو بھی شعر، نظم یا آرٹیکل لکھا گیا ہے، جس سے ان کے افکار سے آگاہی حاصل ہو، ان سب کو یکجا کرنے کے لیے ایک کتاب ترتیب دی جا رہی ہے۔ جن لوگوں نے ڈاکٹر صاحب کے ساتھ وقت گزارا ہے اور ان سے وابستہ کچھ یادیں رکھتے ہیں، ان سے گزارش ہے کہ اپنی یادداشتیں اور مضامین ہمیں ارسال فرمائیں، تاکہ تمام تر آثار کو یکجا کیا جا سکے۔ ان شاء اللہ جلد ہی تمام آثار کتابی شکل میں عاشقان شہید کے لیے پیش کیے جائیں گے۔
برائے رابطہ: 03077738460
tajeelemehdi313@gmail.com
خبر کا کوڈ : 917996
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش