0
Thursday 25 Feb 2021 02:08

آزادی اظہار رائے پر عمل درآمد نہیں ہوتا، مشتاق خان

آزادی اظہار رائے پر عمل درآمد نہیں ہوتا، مشتاق خان
اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ آزادی اظہار رائے پر عمل درآمد نہیں ہوتا، پریس آزاد ہوگا تو سویلین سپریمیسی ہوگی۔ انسانی آزادیوں کا آخری مورچہ پریس کلب ہے، انسانی حقوق کے فرنٹ لائن سپاہی صحافی اور پریس کلب ہوتے ہیں۔ میڈیا نے اپنی جنگ خود لڑنی ہے،محکمہ زراعت کے بعد محکمہ موسمیات نے بھی کام شروع کردیا ہے، دھند، دھونس اور دھاندلی کی فضا میں صحافیوں نے اپنی جدوجہد کو آگے بڑھانا ہے۔ پارلیمنٹ غیر فعال ہے، چھ سال میں 33 صحافی قتل ہوئے لیکن قاتلوں کو سزائیں نہیں ملیں، میڈیا ریگولیشنز اور پی ایس ایل مییچز کا انعقاد آئی ایس پی آر کا کام نہیں ہے، صحافی مظلوم طبقات اور محروموں کی جنگ لڑ رہے ہیں، میڈیا میں کوئی جاب سیکورٹی نہیں، صحافیوں کے بچے فاقوں پر مجبور ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور پریس کلب میں فریڈم آف دی پریس کے نام سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار میں صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عبدالطیف آفریدی سمیت خیبر پختونخوا یونین آف جرنلسٹس اور پی ایف یو جے کے قائدین اور صحافیوں نے شرکت کی۔

سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ صحافیوں پر دہشت گردی کے مقدمات قائم کئے جارہے ہیں، صحافیوں پر ہر طرف سے شدید دباؤ ہے۔ حال یہ ہے کہ اپوزیشن کے پروگرام کو روک لیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آٹھ ہزار صحافی بے روزگار ہوچکے ہیں۔ بیس بیس سال سے اداروں میں کام کرنے والوں کو کھڑے کھڑے فارغ کردیا جاتا ہے۔ کوئی سروس سٹرکچر اور جاب سیکورٹی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ یہ صورتحال رہے۔ کچھ لوگوں کی تجوریاں بھری ہوئی ہیں لیکن صحافیوں کے بچے فاقوں پر مجبور ہیں۔ اس ظلم کو ختم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صحافی ہمارے بھائی اور مظلوم ہیں، ان کی جاب سیکورٹی اور تنخواہوں کا تحفظ ریاست کا فرض ہے۔ جماعت اسلامی صحافیوں کے حقوق کے لئے جدوجہد کرے گی۔ الخدمت فاؤنڈیشن کو صحافیوں کے مسائل کے حل کے لئے احکامات دیئے ہیں۔ ہم سینیٹ کو صحافیوں کی پشت پر کھڑا کریں گے۔ صحافیوں کے لانگ مارچ کی مکمل حمایت اور شرکت کریں گے۔
خبر کا کوڈ : 918220
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش