0
Thursday 25 Feb 2021 23:04

گریفیٹس گویا جارح سعودی عرب کا نمائندہ ہے؛ وسیع مدد پر ایران کے شکر گزار ہیں، ہشام شرف عبداللہ

گریفیٹس گویا جارح سعودی عرب کا نمائندہ ہے؛ وسیع مدد پر ایران کے شکر گزار ہیں، ہشام شرف عبداللہ
اسلام ٹائمز۔ یمنی وزیر خارجہ ہشام شرف عبداللہ نے میڈیا کے ساتھ اپنی گفتگو میں تاکید کی ہے کہ یمنی قوم اپنے خلاف سعودی و اماراتی جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی اور ملک کو مستحکم امن و امان کی آغوش میں پہنچا دے گی۔ عرب نیوز چینل المیادین کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے یمنی وزیر خارجہ نے تاکید کی کہ بائیڈن کی امریکی حکومت اُسی ڈیموکریٹ پارٹی کے ساتھ وابستہ ہے جس نے یمن کے خلاف جنگ شروع کی تھی تاہم اب اس کا کہنا ہے کہ وہ اپنی غلطی کا مداوا کرنے کی کوشش میں ہے۔ ہشام شرف عبداللہ نے کہا کہ (انصاراللہ کی) قومی نجات حکومت (حكومة الإنقاذ الوطني الیمنیہ-National Salvation Government) صلح کی طلبگار ہے جبکہ اس مقصد کے حصول کے لئے پہلے مرحلے میں اعتماد سازی کی ضرورت ہے جبکہ ملک کے خلاف سعودی جارحیت کو ہر حال میں ختم ہونا ہو گا۔

یمنی وزیر خارجہ نے اپنی گفتگو کے دوران ممکنہ مذاکرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قسم کے سیاسی مذاکرات سے قبل نہ صرف یمن پر ہونے والے ہر قسم کے حملوں کا خاتمہ ہو جانا چاہئے بلکہ یمنی سرحد، ایئرپورٹس اور بندرگاہوں کا سخت ترین محاصرہ بھی ختم کر دیا جانا چاہئے۔ ہشام شرف عبداللہ نے یمن کے لئے امریکہ کے خصوصی نمائندے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اُسے چاہئے کہ وہ بیرونی فریقوں کے ساتھ گفتگو کے بجائے براہ راست صنعاء سے بات کرے، میں اُسے نصیحت کرتا ہوں کہ وہ مجھ سے براہِ راست رابطہ کرے۔ یمنی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یمن امریکہ کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھائے گا، یمن کے لئے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کے بارے تاکید کی کہ مارٹن گریفٹس ہمارے سامنے ایسے ایسے مسائل لا رکھتے ہیں کہ گویا وہ اقوم متحدہ کے بجائے سعودی عرب کے نمائندہ ہوں۔

ہشام شرف عبداللہ نے اپنے انٹرویو کے دوسرے حصے میں سال 2014ء میں یمن کے خلاف تیار کی جانے والی حملے کی وسیع گھناؤنی سازش کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ اُس وقت، خلیج فارس کے عرب ممالک کے ساتھ ساتھ مغربی ممالک کے فوجی کمانڈر بھی ریاض میں جمع تھے اور ان سب نے مل کر یمنی قوم کے خلاف یہ سازش تیار کی ہے جبکہ امریکی و برطانوی بھی یمن کے خلاف ہونے والی جارحیت کے بارے اس کے شروع ہونے سے قبل ہی ہر چیز سے آگاہ تھے۔ انہوں نے سابق و مستعفی یمنی صدر عبدربہ منصور ہادی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہادی کو کسی قسم کی قانونی حیثیت حاصل نہیں جبکہ اس حوالے سے برطانوی سفیر اور امریکی نمائندہ کسی اعلی سطحی (یمنی) عوامی نمائندے کے مانند برتاؤ کر رہے ہیں اور یہ چیز ہمارے لئے قابل قبول نہیں۔

یمنی وزیر خارجہ نے ایران کے ساتھ انصاراللہ کی یمنی حکومت کے تعلقات کو برادرانہ قرار دیا اور کہا کہ ایران ایک برادر ملک ہے جس نے ہر ہر قدم پر ہماری مدد کی ہے۔ ہشام شرف عبداللہ نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس حوالے سے ایرانی قوم اور حکام کے انتہائی شکرگزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یمن کے بارے فیصلہ، خود اسی قوم کا حق ہے.. جبکہ ہم ایران کے انتہائی مشکور ہیں.. اور یمن کے حوالے سے ایران پر لگائے جانے والے الزامات یا اس دعوے کہ "ایران کے باعث یمنی جنگ طول پکڑ رہی ہے" کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کرتے ہیں۔

انہوں نے تزویراتی یمنی شہر مأرب کی آزادی پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت مأرب میں تمام دہشتگرد قوتیں جمع ہو چکی ہیں اور یہی وقت ہے کہ وہاں ان کے خلاف وسیع کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردی کی بساط کو سمیٹ دیا جانا چاہئے۔ یمنی وزیر خارجہ نے بین الاقوامی حمایت یافتہ دہشتگردوں کی جانب سے صوبہ مأرب سے تیل کی قومی ثروت کے لوٹے جانے کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ یمنی قوم داعش و القاعدہ کے تکفیری دہشتگردوں کو اس علاقے میں گھسنے کی کسی طور اجازت نہیں دے گی۔ ہشام شرف عبداللہ نے اپنی گفتگو کے آخر میں اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یمن کی قومی نجات حکومت ہی مأرب کے مستقبل کا تعین کرے گی کہا کہ ہم جنگ کے خاتمے اور قدرتی تیل پر مبنی اپنی قومی دولت کی حفاظت کے خواہاں ہیں۔
خبر کا کوڈ : 918384
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش