0
Saturday 6 Mar 2021 09:59

وزیراعظم اور وزراء کے بیانات پر دکھ ہوا، الیکشن کمیشن

وزیراعظم اور وزراء کے بیانات پر دکھ ہوا، الیکشن کمیشن
اسلام ٹائمز۔ وفاق کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ وزیراعظم اور وزراء کے بیانات پر دکھ ہوا، ملکی اداروں پر کیچڑ نہ اچھالیں، کچھ تو احساس کریں، یہ حیران کن بات ہے کہ ایک ہی روز ایک ہی چھت کے نیچے ایک ہی الیکٹورل میں ایک ہی عملہ کی موجودگی میں جو ہار گئے وہ نامنظور جو جیت گئے وہ منظور، کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟، ہر سیاسی جماعت اور شخص میں شکست تسلیم کرنے کا جذبہ ہونا چاہیے، اگر کہیں اختلاف ہے تو شواہد کے ساتھ آ کر بات کریں، آپ کی تجاویز سن سکتے ہیں تو شکایات کیوں نہیں، اگر کسی کو الیکشن کمیشن کے احکامات، فیصلوں پر اعتراض ہے تو وہ آئینی راستہ اختیار کریں اور ہمیں آزادانہ طور پر کام کرنے دیں۔ 
 
اجلاس میں کہا گیا ہے کہ ہم کسی کی خوشنودی کی خاطر آئین و قانون کو نظر انداز کر سکتے ہیں اورنہ ترمیم کر سکتے ہیں‘کسی بھی دباؤ میں آئے ہیں نہ ہی آئیں گے۔تفصیلات کے مطابق جمعہ کو چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیرصدارت الیکشن کمیشن میں اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کے بعد جاری اعلامئے کہا گیا ہے کہ سینیٹ الیکشن رزلٹ کے بعد میڈیا کی وساطت سے جو خیالات مشاہدے میں آئے ان کو سن کر دکھ ہو۔الیکشن کمیشن کو کسی بھی وفود نے ملنا چاہا الیکشن کمیشن نے ان کا مؤقف سنا ان کی تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا۔ 
 
الیکشن کمیشن سب کی سنتا ہے مگر وہ صرف اور صرف آئین وقانون کی روشنی میں ہی اپنے فرائض سرانجام دیتا ہے اور آزادانہ طور پر بغیر کسی دباؤ کے فیصلے کرتا ہے تاکہ پاکستانی عوام میں جمہوریت کو فروغ ملے۔ یہ حیران کن بات ہے کہ ایک ہی روز ایک ہی چھت کے نیچے ایک ہی الیکٹرول میں ایک ہی عملہ کی موجودگی میں جوہار گئے وہ نامنظور جو جیت گئے وہ منظور، کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ جبکہ باقی تمام صوبوں کے رزلٹ قبول، جس رزلٹ پر تبصرہ اور ناراضگی کا اظہار کیا گیا ہے الیکشن کمیشن اس کو مسترد کرتا ہے۔ 
 
یہی ہے جمہوریت اور آزادانہ الیکشن اور خفیہ بیلٹ کا حسن جو پوری قوم نے دیکھا اور یہی آئین کی منشا ء تھی۔ جن خیالات کا اظہار کیاگیا ہے وہ پارلیمنٹ سے منظور کروانے میں کیا امر مانع تھا جبکہ الیکشن کمیشن کا کام قانون سازی نہیں ہے بلکہ قانون کی پاسبانی ہے۔ اگر اسی طرح آئینی اداروں کی تضحیک کی جاتی رہی تو یہ ان کی کمزوری کے مترادف ہے نہ کہ الیکشن کمیشن کی۔الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داریا ں بخوبی قانون اور آئین کی بالا دستی کے لیے احسن طریقے سے انجام دیتا رہے گا۔ 
خبر کا کوڈ : 919914
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش