0
Sunday 14 Mar 2021 19:33

متحدہ عرب امارات کا دورہ "یمنی میزائلوں کے" باعث منسوخ ہوا ہے، بنجمن نیتن یاہو

متحدہ عرب امارات کا دورہ "یمنی میزائلوں کے" باعث منسوخ ہوا ہے، بنجمن نیتن یاہو
اسلام ٹائمز۔ صیہونی میڈیا نے اعلان کیا ہے کہ غاصب صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے گذشتہ ہفتے متحدہ عرب امارات کا اپنا دورہ "یمنی میزائلوں" کے خوف سے ترک کیا ہے۔ عالمی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے خود اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ ہفتے متحدہ عرب امارات کی جانب سعودی فضائی حدود کے ذریعے میری پرواز میں یمنی میزائلوں کے خطرے کے باعث رکاوٹ پیش آ گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق صیہونی ٹیلیویژن کے چینل نمبر 13 کو دیئے گئے انٹرویو میں بنجمن نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ میں نے گذشتہ ہفتے کے دوران متحدہ عرب امارات کا اپنا دورہ، اردن کے ساتھ موجود اختلافات کے باعث منسوخ کیا ہے کیونکہ اردن نے عارضی طور پر میرے طیارے کے لئے اپنی فضائی حدود کو بند کر رکھا ہے۔ بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ اردن کی فضائی حدود کی بندش کے باعث متحدہ عرب امارات جانے کے لئے ایک زیادہ جنوبی رستہ (سعودی فضائی حدود کے ذریعے) موجود تھا لیکن اس رستے میں اپنی توعیت کی کچھ خاص مشکلات موجود تھیں۔

صیہونی میڈیا سے گفتگو میں اسرائیلی وزیر اعظم نے جارح ملک سعودی عرب پر ہونے والے یمن کے جوابی حملوں کی جانب ہلکا سا اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ ہفتے سعودی فضائی حدود میں خاص قسم کی مشکلات موجود تھیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے اس حوالے سے لکھا ہے کہ بنجمن نیتن یاہو نے سعودی فضائی حدود میں موجود مشکلات کے بارے مزید تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا اور نہ ہی یہ بتایا کہ اس کے خصوصی طیارے کو ایرانی حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے میزائلوں سے خطرہ لاحق تھا یا نہیں۔ عالمی خبررساں ایجنسی نے لکھا کہ بنجمن نیتن یاہو کو امید تھی کہ اُسے ابوظہبی کے دورے اور بن زائد سے ملاقات کو 23 مارچ کے روز منعقد ہونے والے اسرائیلی انتخابات میں کارڈ کے طور پر استعمال کرنے کا موقع مل جائے گا۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے انصاراللہ فورسز اور یمنی مسلح افواج کی جانب سے کھلی جارحیت کے جواب میں سعودی عرب کی تیل کی برآمدات کے اصلی مرکز بندرگاہ التنورہ کے ساتھ ساتھ جدہ کی بین الاقوامی ایئرپورٹ اور ملک خالد ایئربیس کو بھی اپنے بیلسٹک میزائلوں و پیشرفتہ ڈرون طیاروں کے ذریعے وسیع حملوں کا نشانہ بنایا تھا۔ عرب میڈیا کے مطابق اردنی ولی عہد کو مسجد الاقصی میں داخل ہونے سے روک دیئے جانے اور صیہونی وزیراعظم کے دورۂ امارات کے منسوخ ہو جانے کے بعد، اردنی وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے اس حوالے سے سرکاری سطح پر انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے ولی عہد شب معراج کے موقع پر مسجد الاقصی میں نماز ادا کرنا چاہتے تھے لیکن اس حوالے سے اسرائیل کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کو اسرائیل نے آخری لمحات میں توڑتے ہوئے کچھ نئی پابندیوں اور اقدامات کو لاگو کرنے کی کوشش کی جس کے باعث ولی عہد نے اس سفر کو منسوخ کر دیا۔
خبر کا کوڈ : 921515
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش