0
Wednesday 7 Apr 2021 15:24

شمالی آئر لینڈ میں بریگزیٹ قانون کے خلاف بغاوت

شمالی آئر لینڈ میں بریگزیٹ قانون کے خلاف بغاوت
اسلام ٹائمز۔ اس ہفتہ اتوار کی رات سے جاری فسادات میں بیلفاسٹ اور دری (Londonderry) کے شہروں میں احتجاج کرنے والے نوجوانوں نے پولیس پر اینٹوں اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد پھینکا اور فائرنگ کی۔ یہ تنازعہ برطانیہ سے خطے میں بریکسیٹ کے بعد کے ضابطے کے بارے میں سیاسی مسائل پر جاری ہے۔ پروٹسٹنٹ اور کیتھولک اتحاد پر مشتمل بلدیاتی حکومت میں شامل جماعتوں کے مابین تناؤ بھی بڑھ گیا ہے۔ یورو نیوز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس کے مطابق اتوار کی رات ہونے والے مظاہروں میں زیادہ تر مظاہرین نوجوان تھے۔ شمالی آئرش کے بہت سے سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ پولیس نے بدامنی کے بعد اتوار کی رات مظاہرین سے پرسکون رہنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ایک 13 سالہ نوجوان سمیت آٹھ افراد کے خلاف اتوار کی رات ہنگاموں کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ برطانیہ اور یورپی یونین کے مابین تجارتی معاہدے کے مطابق شمالی آئرلینڈ اور برطانیہ کے دیگر حصوں کے درمیان سامان کی نقل و حرکت کو سرحد اور کسٹم کے معائنے سے مشروط کیا گیا ہے۔ اس معاہدے پر یورپی کمیشن کے صدر اروسولا وان ڈیر لین اور یورپی کونسل کے صدر چارلس مشیل نے دستخط کیے تھے۔ اس اقدام کا مقصد شمالی آئرلینڈ اور جمہوریہ آئرلینڈ کے مابین بارڈر کنٹرول یا "گڈ فرائیڈے ایگریمنٹ" کو موثر بنانا ہے۔ 1998ء میں ہونے والے گڈ فرائیڈے معاہدہ نے آئرش ریپبلیکنز، برطانوی وفاداروں اور شمالی آئرلینڈ میں آئرش مسلح افواج کے مابین کئی دہائیوں کے تنازع کو ختم کیا تھا۔ ان سالوں میں متشدد کارروائیوں کے دوران 3000 سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ برطانیہ نے بریگزیٹ معاہدے میں وعدہ کیا تھا کہ وہ شمالی آئرلینڈ اور برطانوی حدود کے دیگر حصوں کے مابین سامان منتقل کرنے کے لئے کسٹم کا پابند ہوگا جبکہ اس دوران لندن نے یکطرفہ طور پر اس معاہدہ کو اکتوبر تک ملتوی کر دیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 925820
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش