0
Thursday 15 Apr 2021 10:48

5 اگست 2019ء سے پہلے کی پوزیشن بحال کرنے میں امن کی ضمانت کا راز مضمر ہے، علی ساگر

5 اگست 2019ء سے پہلے کی پوزیشن بحال کرنے میں امن کی ضمانت کا راز مضمر ہے، علی ساگر
اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر نے کہا کہ 5 اگست سے پہلے کی پوزیشن بحال کرنے میں امن کی ضمانت کا راز مضمر ہے۔ پارٹی ہیڈ کواٹر نوائے صبح پر امیراکدل، سونہ وار، بٹہ مالو، عیدگاہ، حبہ کدل اور حضرتبل بلاک و حلقہ صدور اور سکریٹریز کے علاوہ یوتھ اور خواتین ونگ صدر سے خطاب کرتے ہوئے علی محمد ساگر نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اور اس کی قیادت روز اول سے ہی جموں کشمیر کے عوام کے آئینی اور جم ہوری حقوق کی پاسبان اور علمبردار جماعت رہی ہے اور اس جماعت نے مرحوم شیخ محمد عبداللہ کی قیادت میں جموں کشمیر میں عوامی راج کی بنیاد 1948ء میں ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم شیخ محمد عبداللہ کی اعلیٰ صلاحتوں اور دوراندیشی کی بدولت جموں کشمیر میں آئینی اور جمہوری اداروں کی بنیاد پڑی۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے موجودہ دہلی حکومت کے ذمہ دار لیڈران یہ کہتے ہیں کہ بقول ان کے دفعہ 370 اور 35 اے کے خاتمے سے کشمیریوں کو انصاف ملا جو کہ سراسر صداقت سے بعید ہے اور تاریخ کو مسخ کرنے کے علاوہ جمہوریت کے قتل کے مترادف ہے۔ علی محمد ساگر نے کہا کہ جموں کشمیر کو مرکزی زیر انتظام والے خطوں میں تقسیم کرنے سے  یہاں کے لوگوں کو آئینی و جمہوری حقوق سے محروم کر دیا گیا، حتیٰ کہ یہ حقوق ہمیں آئین ہند کے تحت 1952ء کی خصوصی پوزیشن اور آزاد ہند کے صف اول کے لیڈروں نے اس کی منظوری لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں دی۔

علی محمد ساگر نے کہا کہ جب تک ان حقوق کا بغیر طول کے واپس نہ کیا جائے گا تب تک جموں کشمیر کی نہ تو کوئی ترقی ہوگی اور نہ ہی امن و امان کی ضمانت ہے۔ نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکریٹری نے کہا کہ ہم اس وقت آئینی، جمہوری اصولوں کو اپنا کر جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن بحال کرنے کی جنگ لڑ رہے ہیں اور لوگوں کی خاموشی کو غیر سنجیدہ لینا بھاجپا لیڈران کی نا عاقبت اندیشی ہے۔ علی ساگر نے کہا کہ نیشنل کانفرنس جموں کشمیر کو 1947ء یعنی جموں، لداخ اور کشمیر کی صورت میں واپس کرنے میں پیش پیش رہے گی اور اسی میں بھارت کی سالمیت بھی منحصر ہے۔ اس موقعہ پر پارٹی کے معاون جنرل سیکریٹری ڈاکٹر مصطفی کمال، غلام قادر پردیسی، شمیمہ فردوس، پیر آفاق احمد، صبیہ قادری، عرفان شاہ، احسان پردیسی، مدثر شاہمیری، سلام الدین بجاڈ، سید رفیق شاہ اور دیگر لیڈراں بھی موجود تھے۔
خبر کا کوڈ : 927318
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش