0
Thursday 18 Aug 2011 17:04

پینٹا کے بیان کا یہ مطلب نہیں کہ حقانی اور لشکر طیبہ کے اسلام آباد سے روابط ہیں، امریکہ

پینٹا کے بیان کا یہ مطلب نہیں کہ حقانی اور لشکر طیبہ کے اسلام آباد سے روابط ہیں، امریکہ
واشنگٹن:اسلام ٹائمز۔امریکہ نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ وہ پاکستان کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاست نہیں سمجھتا، پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارا پارٹنر ہے۔ یہ بات امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے صحافیوں کو بریفنگ میں کہی۔ ترجمان سے بھارتی نامہ نگاروں سمیت کئی صحافیوں نے سوالات کئے کہ لیون پنیٹا نے کہا ہے کہ پاکستان کے حقانی نیٹ ورک اور کالعدم لشکر طیبہ سے روابط ہیں، جبکہ امریکہ ان دونوں تنظیموں کو دہشت گرد قرار دے چکا ہے، چنانچہ کیا امریکی حکومت پاکستان کو ایک ایسی ریاست سمجھتی ہے جو دہشتگردی کی سرپرستی کر رہی ہے؟
امریکی ترجمان نے پنیٹا کے بیان سے بالکل یو ٹرن لیتے ہوئے کہا کہ وزیر دفاع نے دراصل اس تشویش پر بات کی ہے جو ان دونوں تنظیموں کے کام کرنے کی نوعیت اور پاکستان کے ساتھ کسی ممکنہ تعلق کے حوالے سے امریکہ کو لاحق ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ پاکستان دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے۔ اس معاملہ پر پاکستان سے بات چیت کر رہے ہیں، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان ہمارا پارٹنر ہے اور ہم آئندہ بھی مل جل کر کام کرتے رہیں گے کیونکہ دہشت گردی پر قابو پانا ہم دونوں کے مفاد میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خود دہشتگردی کی سرپرستی کرنے کے برعکس یہ ایک بالکل مختلف معاملہ ہے۔ ترجمان نے کہا کہ وزیر دفاع کے ریمارکس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ دونوں تنظیموں کے پاکستانی حکومت کے ساتھ تعلقات ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ جہاں تک ممکن ہو سکے پاکستان امریکہ روابط اور تعاون کو مضبوط بنایا جائے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ حقانی نیٹ ورک اور لشکر طیبہ جن کے بارے میں وزیر دفاع پنیٹا نے بات کی ہے دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ہیں۔
خبر کا کوڈ : 92841
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب