0
Thursday 22 Apr 2021 21:38

گلگت بلتستان کونسل کے انتخابات کی تیاریاں شروع

گلگت بلتستان کونسل کے انتخابات کی تیاریاں شروع
اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان کونسل کے انتخابات کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ الیکشن کمشنر نے سیکرٹری قانون کو ایک لیٹر لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جی بی کونسل کے ممبران کی مدت 18 مئی کو ختم ہو رہی ہے، اس لیے نئے ممبران کے چناﺅ کیلئے تیاریاں شروع کی جائیں۔ الیکشن کمشنر کے لیٹر کے بعد کونسل کے الیکشن کیلئے تیاریاں شروع کر دی گئیں ہیں۔ جی بی اسمبلی ممبران کونسل کے چھ ارکان کا انتخاب کرینگے۔ اس وقت کونسل میں پانچ ممبران ہیں جبکہ ایک ممبر سید افضل گزشتہ سال وفات پا گئے تھے، ان کی جگہ نئے ممبر کا انتخاب نہ ہو سکا۔ یاد رہے کہ گلگت بلتستان کونسل میں کل 15 ممبران ہوتے ہیں، جن میں سے چھ ارکان گلگت بلتستان اسمبلی منتخب کرتی ہے جبکہ جبکہ چھ ارکان وفاق سے سلیکٹ ہوتے ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان کونسل کے چیئرمین، گورنر جی بی وائس چیئرمین جبکہ وزیر اعلیٰ جی بی کونسل کا خصوصی ممبر ہوتا ہے۔

اس وقت جی بی کونسل میں موجود گلگت بلتستان کے چھ ممبران میں اشرف صدا، ارمان شاہ، سلطان علی خان، سید عباس رضوی، وزیر اخلاق شامل ہیں جبکہ ایک ممبر سید افضل گزشتہ سال وفاق پاچکے ہیں۔ جی بی کونسل 2009ء کے آرڈر کے تحت وجود میں آئی تھی۔ پیپلزپارٹی کی حکومت نے جب پہلی مرتبہ آرڈر کے ذریعے گلگت بلتستان کو صوبائی سیٹ اپ دیا تو اس میں جی بی کونسل بھی قائم کی گئی۔ یہ وفاق اور گلگت بلتستان میں رابطے کیلئے سینیٹ کی طرز پر قائم کی گئی تھی تاہم جی بی کے اہم ترین سبجیکٹس جیسے منرلز، فاریسٹ، سیاحت سمیت 50 سے زائد شعبوں میں قانون سازی کا اختیار کونسل کو ہی حاصل ہے۔ وفاق میں جب نون لیگ کی حکومت قائم ہوئی تو آرڈر 2018ء پر کام شروع ہوا اور اس میں کونسل ختم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن دباﺅ کے بعد کونسل برقرار رہی تاہم کئی سبجیکٹس کونسل سے جی بی اسمبلی کو منتقل ہوئے۔

تحریک انصاف کی حکومت نے پھر آرڈر 2019ء تیار کیا جس میں کونسل کی پرانی حیثیت پھر برقرار رکھی گئی۔ چونکہ اس وقت گلگت بلتستان میں عملی طور پر آرڈر 2018ء کے تحت انتظامی سرگرمیاں جاری ہیں لیکن سپریم کورٹ کے سترہ جنوری 2019ء کے فیصلے کے بعد آئینی طور پر آرڈر 2019ء لاگو ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں کونسل تقریباً غیر فعال بن کر رہ گئی ہے۔ گزشتہ دو سالوں سے کونسل کا ایک بھی اجلاس نہ ہو سکا ہے۔ دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کے اعلان کے بعد کونسل کے مستقبل پر سوالات پیدا ہو گئے تھے کیونکہ ایک آئینی صوبے میں کونسل کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔ اب یہ سوال پھر بھی باقی ہے کہ اگر جی بی کو عبوری صوبہ بنایا جاتا ہے تو کونسل کی حیثیت کیا ہوگی اور اس کو کس طرح برقرار رکھا جائے گا؟
خبر کا کوڈ : 928691
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش