0
Sunday 25 Apr 2021 17:41

جموں و کشمیر میں ’کورونا کرفیو‘ سے معمول کی زندگی معطل

جموں و کشمیر میں ’کورونا کرفیو‘ سے معمول کی زندگی معطل
اسلام ٹائمز۔ مقبوضہ کشمیر میں کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لئے اتوار کو سخت ترین پابندیاں نافذ رہیں جس کے سبب دونوں شہروں (سرینگر اور جموں) سمیت تمام قصبہ جات میں ہر ایک سڑک سنسان نظر آئی واضح رہے کہ انتظامیہ نے کورونا وائرس کے کیسز میں غیر معمولی اضافے کے پیش نظر یہاں 34 گھنٹوں تک جاری رہنے والے ’کورونا کرفیو‘ کے نفاذ کے احکامات جاری کئے ہیں۔ حکومتی احکامات کے مطابق ہفتے کی رات آٹھ بجے سے نافذ کیا جانے والا یہ کرفیو پیر کی صبح چھ بجے تک جاری رہے گا۔ اس دوران تمام بازار اور تجارتی مراکز بند رہیں گے تاہم ایمرجنسی اور اہم سروسز کو چلنے کی اجازت ہوگی۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت کی مختلف ریاستوں کی طرح جموں و کشمیر میں بھی کورونا کیسز اور اموات میں روز افزوں ہوش ربا اضافہ درج ہو رہا ہے جس سے لوگوں میں ایک بار پھر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ انتظامیہ نے گذشتہ دنوں کورونا کی تازہ لہر کی روک تھام کے لئے جموں و کشمیر کے تمام اضلاع میں جزوی لاک ڈاؤن کے نفاذ کا اعلان کیا جس کے تحت بازاروں میں صرف پچاس فیصد دکان ہی کھلے رہتے ہیں اور مسافر بردار گاڑیوں کو بھی پچاس فیصد سواریاں اٹھانے کی اجازت ہے۔ اس جزوی لاک ڈاؤن پر اتوار کو چھوڑ کر ہفتے کے باقی دنوں میں عمل درآمد جاری رہے گا۔

جموں و کشمیر میں انتظامیہ نے تمام تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کا عمل 15 مئی تک معطل رکھنے کا پہلے ہی اعلان کر رکھا ہے۔ تاہم سیاحتی سرگرمیوں کو فی الحال جاری رکھا گیا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق 34 گھنٹوں تک جاری رہنے والے کرفیو کی وجہ سے اتوار کو جموں و کشمیر کے دونوں شہروں اور سبھی قصبہ جات میں تمام دکانیں اور دیگر تجارتی مراکز بند رہے۔ لوگوں کی نقل و حرکت کو روکنے کے لئے جگہ جگہ پر فورسز اہلکار تعینات نظر آئے جنہوں نے بعض سڑکوں کو خاردار تار سے سیل کیا تھا۔ مختلف علاقوں میں جموں و کشمیر پولیس کے اہلکار گاڑیوں میں نصب لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے لوگوں کو اپنے گھر تک ہی محدود رہنے کی اپیل کرتے ہوئے نظر آئے۔
خبر کا کوڈ : 929180
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش