0
Tuesday 27 Apr 2021 19:16

خطے میں ایرانی حلیفوں سے سخت پریشان اور افغانستان چھوڑ رہے ہیں، جنرل میکنزی

خطے میں ایرانی حلیفوں سے سخت پریشان اور افغانستان چھوڑ رہے ہیں، جنرل میکنزی
اسلام ٹائمز۔ خطے میں امریکی فوجی کمانڈ سنٹر "سنٹکام" کے کمانڈر جنرل کینٹ میکنزی نے اپنے ایک بیان میں عراقی سرکاری افواج میں شامل عوامی مزاحمتی فورس "حشد الشعبی" پر ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کا الزام عائد کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ اگر ایران نے عراق میں موجود مسلح گروہوں کی حمایت سے ہاتھ نہ اٹھایا تو عراق میں (قابض امریکی فورسز پر) ان کے حملے جاری رہیں گے۔ امریکی جنرل نے خطے میں مبینہ ایرانی اتحادیوں کے حوالے سے امریکہ کو لاحق پریشانی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے ہمارے انخلاء کا روڈ میپ تیار ہو چکا ہے جبکہ اس پر ماہ مئی کے آغاز سے عملدرآمد شروع کر دیا جائے گا جس کے بعد افغانستان میں صرف سفارتخانے کی حفاظت خاطر انتہائی محدود پیمانے پر امریکی موجودگی باقی رہے گی۔

خطے میں تعینات امریکی کمانڈر نے لاحق شدید پریشانیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس حوالے سے انتہائی محتاط ہیں کہ کہیں ہم خلیج فارس میں ایران کے اشتعال انگیز اقدامات میں گرفتار نہ ہو جائیں جبکہ پورے خطے، خصوصا عراق میں موجود ایرانی حلیفوں کے اقدامات سے ہمیں شدید پریشانی لاحق ہے۔ جنرل میکنزی نے کہا کہ بین الاقوامی تجارت کے ساتھ آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے واقعات ہم پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں گو کہ آبنائے ہرمز پر ہمارا انحصار نہیں۔ امریکی جنرل نے یمن پر مسلط سعودی جارحیت کے حوالے سے کہا کہ یمن میں جنگ بندی کا ایک موقع میسر ہوا ہے جبکہ یمن میں جنگ بندی ریاض کے لئے انتہائی اہم ہے جو اس حوالے سے سچی نیت کے ساتھ عمل پیرا ہے تاہم ہمیں امید ہے کہ حوثی بھی اسی طرح سے عمل کریں گے۔
خبر کا کوڈ : 929549
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش