0
Friday 30 Apr 2021 23:04

وزیراعظم کا گلگت بلتستان کیلئے 370 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان

وزیراعظم کا گلگت بلتستان کیلئے 370 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان
رپورٹ: لیاقت علی انجم

وزیراعظم عمران خان نے گلگت بلتستان کیلئے 370 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان کر دیا۔ پانچ سالہ پروگرام کے تحت جی بی میں 370 ارب کے ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔ ترقیاتی پیکج میں شامل ترجیحی منصوبوں میں کلین انرجی، ہائیڈرو پراجیکٹ، ٹورزم، روڈ اور ٹیلی کام، انٹرنیٹ، زراعت، انڈسٹریز، ویمن ڈویلپمنٹ، سکل ڈویلپمنٹ کے منصوبے شامل ہیں۔ پانچ سالہ 370 ارب کے پیکج میں 275 ارب کے پی ایس ڈی پی منصوبے ہونگے، جن میں 130 ارب کے نئے منصوبے جبکہ 31 ارب کے 11 جاری پی ایس ڈی پی منصوبے شامل ہونگے۔ پیکج میں گلگت بلتستان کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے 2114 جاری منصوبوں کیلئے بھی فنڈز فراہم کیے جائیں گے، جن کی مجموعی مالیت 113 ارب روپے ہوگی۔ 4 ارب 81 کروڑ کے نان پی ایس ڈی پی منصوبے بھی پیکج کا حصہ ہیں۔ 90 ارب کے 12 پی پی پی (پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ) منصوبے بھی شامل کیے گئے ہیں۔ اس پیکج میں شونٹر ٹنل منصوبہ شامل نہیں کیا گیا ہے، تاہم این ایچ اے کو فزیبلٹی تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

دوسری جانب 10 ارب لاگت کا گلگت شندور ایکسپریس وے منصوبہ سی پیک پائب لائن میں شامل کیا گیا ہے۔ ترقیاتی پیکج میں شامل پاور پراجیکٹس میں 50 میگاواٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ عطاء آباد ہنزہ لاگت 20 ارب روپے، 17.4 میگاواٹ سدپارہ ڈیم اور شتونگ نالہ کیلئے 14 ارب روپے، 30 میگاواٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ غواڑی گانچھے لاگت 16 ارب 40 کروڑ روپے، 100 میگاواٹ کے آئی یو ہائیڈرو پراجیکٹ لاگت 48 ارب روپے، ریجنل گرڈ سٹیشن فیز ٹو کیلئے 17 ارب 50 کروڑ روپے، 15 میگاواٹ سکارکوئی گلگت لاگت 6 ارب روپے، 15 میگاواٹ گلوداس غذر پاور پراجیکٹ لاگت 7 ارب 79 کروڑ روپے، 10 میگاواٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ جگلوٹ لاگت 4 ارب روپے، 10 میگاواٹ طورمک پاور پراجیکٹ لاگت 4 ارب 40 کروڑ روپے، 2.8 میگاواٹ رن آف ریور منصوبہ ہنزہ لاگت ایک ارب چالیس کروڑ روپے شامل ہیں۔ ٹرانسپورٹ اور کمیونیکیشن سیکٹر میں شغرتھنگ، گوریکوٹ روڈ کی تعمیر لاگت 5 ارب 30 کروڑ روپے، 3 ارب 20 کروڑ روپے کی لاگت سے داریل تانگیر ایکسپریس وے کی تعمیر، پانچ ارب روپے کی لاگت سے شگر پیجو روڈ کی تعمیر، 4 ارب 50 کروڑ روپے کی لاگت سے 38 کلومیٹر شاہراہ نگر کی تعمیر، تھیلچی سے شونٹر تک استور ویلی روڈ کی تعمیر لاگت 17 ارب روپے شامل ہیں۔

ٹورازم سیکٹر میں سکردو میں ایک ارب روپے کی لاگت سے ہوٹل مینجمنٹ اینڈ ہاسپٹیلٹی مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ کا قیام لاگت ایک روب روپے، ہنزہ میں ایڈونچر سپورٹس، راک کلائمبنگ اور ماﺅنٹینیرنگ انسٹی ٹیوٹ کا قیام لاگت 50 کروڑ روپے، ایک ارب روپے کی لاگت سے تمام دس اضلاع میں ٹریلز اینڈ ٹریکس کی تعمیر، ہنزہ میں ایک ارب روپے کی لاگت سے گریٹر واٹر سپلائی سکیم، پچاس کروڑ روپے کے منصوبے کے تحت نوجوانوں کیلئے ایکو ٹورزم، کیمپس، کیمپنگ، ٹریکنگ کی تربیت، 2 ارب روپے کی لاگت سے پی پی پی (پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ) پراجیکٹ کے تحت سیاحت کا فروغ شامل ہیں۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں جن منصوبوں کو پیکج میں شامل کیا گیا ہے ان میں گلگت پی ایچ کیو ہسپتال کی اپ گریڈیشن لاگت 2 ارب روپے سے زائد، گلگت میں پانچ ارب روپے کی لاگت سے میڈیکل کالج کا قیام، سکردو 250بیڈ ہسپتال کو 500 بیڈ تک توسیع دینے کا منصوبہ جس کی لاگت ڈھائی ارب روپے، چلاس ریجنل ہسپتال کو 400 بیڈ تک روسیع دینے کا منصوبہ لاگت دو ارب دس کروڑ روپے، سکردو میں میڈیکل کالج اور دیگر تعلیمی اداروں کے قیام کیلئے 4 ارب روپے اور تمام دس اضلاع میں آئی ٹی سنٹرز کے قیام کا منصوبہ شامل ہیں۔

واٹر اینڈ سینیٹیشن، یوتھ افیئرز کے شعبے میں شامل منصوبوں میں چار ارب روپے کی لاگت سے گلگت میں واٹر سپلائی کا منصوبہ، ساڑھے چار ارب روپے کی لاگت سے سکردو میں سیوریج اور سینیٹیشن کا منصوبہ، تمام دس اضلاع میں ایک ارب روپے کی لاگت سے خصوصی افراد کیلئے سکلز سنٹرز کے قیام کا منصوبہ شامل ہیں۔انفارمیشن ٹیکنالوجی سیکٹر میں پانچ کروڑ روپے کی لاگت سے ڈی جی سکلز ڈاٹ پی کے کے ذریعے نوجوانوں کی ٹریننگ، بالائی علاقوں میں موبائل فون، انٹرنیٹ کی سروس کی فراہمی کا منصوبہ اور تھری جی فور جی کی نیلامی شامل ہیں۔سکردو، ہنزہ اور چلاس میں ایل پی جی ایئرمکس پلانٹ کے قیام کیلئے 50 کروڑ روپے، سکردو میں آئل بلک ڈپو کے قیام کیلئے 20 کروڑ روپے بھی پیکج کا حصہ ہونگے۔ پیکج میں سیلاب اور قدرتی آفات سے بچاﺅ کے منصوبے بھی شامل ہیں جن میں دس اضلاع میں82 فلڈ پروٹیکشن سٹرکچر کا قیام، ریسکیو سروس کو تمام اضلاع میں توسیع دینے کیلئے 35 کروڑ روپے و دیگر منصوبے شامل ہیں۔

ترقیاتی پیکج کے تحت گلگت بلتستان میں 360 کلومیٹر پانچ بڑی سڑکوں کی تعمیر، تمام اضلاع میں لکڑی کے پلوں کو آر سی سی پلوں میں تبدیل کرنے کا منصوبہ، 12 سو کلومیٹر انٹرویلی لنک روڈ کی تعمیر بھی شامل ہیں۔ ترقیاتی پیکج کے تحت ہر سال گلگت بلتستان کے 50 طلباء کو اعلیٰ تعلیم کیلئے سکالرشپ دی جائے گی، جبکہ ہر سال 120 طلبا کو وکیشنل ٹریننگ، ہر سال 300 آئی ٹی پروفیشنلز پیدا کیے جائیں گے۔ ہر سال 4429 ٹرینیز کو وزیر اعظم پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔ ترقیاتی پیکج کے تحت دس اضلاع میں 120 کلومیٹر واٹر چینل بھی تعمیر کیا جائے گا، جی بی میں سیاحوں کی تعداد کو سالانہ 15 فیصد بڑھانے کیلئے بھی خصوصی منصوبے شروع کیے جائیں گے۔ ترقیاتی پیکج کے تحت مناور گلگت میں 25 میڈیم انڈسٹریل یونٹس کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا جس سے 3200 مقامی افراد کو روزگار ملے گا۔

ترقیاتی پیکج کے تحت پی ایس ڈی پی منصوبوں کیلئے مالی سال 22-2021ء کیلئے 40 ارب روپے، مالی سال 23-2022ء کیلئے 50 ارب روپے، مالی سال 2023-24ء کیلئے 55 ارب روپے، مالی سال 25-2024ء کیلئے 60 ارب، مالی سال 26-2025ء کیلئے 70 ارب روپے جاری کیے جائیں گے۔ پیکج پر عملدرآمد کیلئے وفاقی سیکرٹریز، چیف سیکرٹری جی بی و دیگر سٹیک ہولڈرز فارمولا طے کریں گے۔ منصوبوں کا پی سی ون اور پی سی ٹو تین ماہ میں بنایا جائے گا۔ پی ایس ڈی پی منصوبے تین ماہ کے اندر شروع ہونگے، تین ماہ کے اندر جی بی پاور پالیسی مرتب کی جائے گی، یاد رہے کہ ترقیاتی پیکج پر جون 2020ء میں کام شروع کیا گیا تھا، اس عمل کے دوران وزیر اعلیٰ، وزیر امور کشمیر اور صوبائی وزیر پلاننگ شریک رہے۔ وزیر اعظم نے 30 مارچ کو اس پیکج کی منظوری دی تھی جس کا باضابطہ اعلان جمعہ کے روز دورہ گلگت کے دوران کیا گیا۔

وزیر اعظم کا گلگت میں خطاب
وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں سیاحت کے اتنے مواقع موجود ہیں کہ یہ مرکز سے پیسے لینے کی بجائے اسے دے سکتا ہے، ملک سے پیسے چوری کرکے باہر لے جانے والے لوگ ملک کے غدار اور قومی مجرم ہیں، گلگت بلتستان کیلئے 370 ارب روپے کا پیکیج شروعات ہے مزید بھی مدد کریں گے. سکردو ایئرپورٹ سے بین الاقوامی پروازیں چلائی جائیں گی، انصاف اور قانون کی بالادستی کے بغیر کوئی ملک خوشحال نہیں ہو سکتا، بڑے اور طاقتور لوگ چوری کرتے ہیں تو اس سے ملک تباہ ہوتے ہیں، ان قوموں کی تباہی ہوئی جہاں امیر اور غریب کے لئے الگ الگ قانون ہوں، میری تربیت چوروں کے خلاف جدوجہد کی یے اور اس جدوجہد میں ضرور کامیاب ہوں گے۔

جمعہ کو گلگت میں ترقیاتی پیکیج کے اعلان کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ گلگت بلتستان کے لئے ایسا پیکیج دینا چاہتے تھے جس سے یہاں ترقی آئے تاہم قرض اور ان کی قسطیں دینے کی وجہ سے پیسے نہیں تھے، ہر جگہ سے فنڈز کا مطالبہ ہے تاہم اس کے باوجود گلگت بلتستان کے لئے تاریخی پیکیج دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب میں 15 سال کا تھا تب سکول کی طرف سے یہاں کا دورہ کیا یہاں کے ڈرائیور بہت مہارت رکھتے ہیں، انہیں سلام پیش کرتے ہیں، یہاں انفراسٹرکچر نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان سمیت دنیا کا اس سے رابطہ نہیں تھا، یہ علاقہ دنیا سے الگ تھلگ تھا، یہاں ابھی بھی سڑکیں خطرناک ہیں ہم ان کو بہتر کر رہے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے سوئٹزرلینڈ سمیت دنیا کے خوبصورت علاقے دیکھے تاہم مجھے فخر ہے کہ گلگت بلتستان ان سے بہت خوبصورت ہے، یہاں دنیا کے بڑے پہاڑی سلسلے، سرسبز میدان زیادہ خوبصورت ہیں، میں جب باہر سے واپس آیا تو اپنے دوستوں کو یہاں لے کر آیا میں نے یہاں کی خوبصورتی کو کتابی شکل دی، اس سے دنیا کو اس علاقے کی خوبصورتی سے آگاہی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے تب یہ اعادہ کیا تھا کہ اگر کبھی موقع ملا تو اس علاقہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کی خدمت کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں حکمران گرمیاں گزارنے بیرون ملک جاتے تھے، ان کی اولادیں وہاں تعلیم حاصل کرتی تھیں، ان کی جائیدادیں وہاں تھیں، وہ اس علاقہ میں ہیلی کاپٹر پر چکر لگا لیتے تھے۔

پیسہ باہر لے جانے والے غدار ہیں
وزیر اعظم نے کہا کہ اس علاقہ میں انڈسٹریل زون سے زیادہ سمال انڈسٹریز سودمند ہو سکتی ہیں، یہاں کا پھل دنیا میں بہترین ذائقہ والا ہے، یہاں فوڈ پروسیسنگ یونٹس بنائے جاسکتے ہیں، یہاں سیاحت میں سب سے ذیادہ مواقع ہیں، یہ علاقہ رقبہ میں سوئٹزرلینڈ سے دوگنا بڑا ہے، یہاں خوبصورتی زیادہ ہے، سوئٹزرلینڈ سیاحت سے 60 سے 80 ارب ڈالر کماتا ہے ہماری ساری برآمدات 25 ارب ڈالر ہیں، ہماری حکومت ان میں اضافہ کے لئے کوشاں ہے، ہم گلگت بلتستان کو ترقی دیں گے تو اس سے نہ صرف مقامی افراد کو روزگار ملے گا بلکہ بیرونی سرمایہ آئے گا، گلگت بلتستان پیکیج کا پورے ملک کو فائدہ ہوگا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سیاست میں تین طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو اپنے آپ کو فائدہ پہنچاتے ہیں اور اس کے لئے وہ کرپشن نہیں کرتے لیکن اپنا منصب استعمال کرتے ہیں، یہ بھی ایک طرح کی کرپشن ہے، دوسرے لوگ یہاں سے پیسہ چوری کرکے باہر لے جاتے ہیں ایسے لوگ ملک کے غدار اور قومی مجرم ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ یہ لوگ یہاں لگنے والا پیسہ چوری کرکے باہر لے جاتے ہیں اور دوسرا یہاں سے ڈالر میں باہر رقم منتقل کرتے ہیں، اس سے ملک میں غربت آتی ہے، ساری دنیا میں انہیں برا سمجھا جاتا ہے، دوسرے لوگ ایسے جو اقتدار میں کچھ کام بھی کرجاتے ہیں اور کچھ فائدہ بھی اٹھا لیتے ہیں جبکہ تیسرے ایسے لوگ ہیں جو سیاست کو عبادت سمجھ کر کرتے ہیں، اس میں رہتی دنیا تک رول ماڈل نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ہےان کا اقتدار اور ریاست عوام کے لئے تھی، انہوں نے کمزور طبقہ پر خرچ کیا، دنیا کی تاریخ کی پہلی فلاحی ریاست بنا دی، انہوں نے سادہ زندگی گزاری، ہم آج بھی ان کے لئے جان دینے پر تیار ہیں، وہ ہمارے دلوں میں بستے ہیں، انہوں نے آنے والی دنیا کو بتادیا کہ اقتدار کتنی بھاری ذمہ داری ہوتی ہے۔

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کیلئے خالد خورشید کا انتخاب درست فیصلہ تھا
وزیراعظم نے کہا کہ وزیر اعلی گلگت بلتستان کے لئے خالد خورشید کا انتخاب درست فیصلہ تھا، خالد خورشید میں جنون ہے، وہ اپنے علاقے کی بہتری کے لئے سوچتا ہے، ایسے لوگوں کی مدد بھی کرتے ہیں، جس نے کمیشن نہیں لینا، جو پیسے یہاں سے باہر بھیج دیتا ہو اس کو کیسے فنڈز دیں، گلگت بلتستان کے لئے 370 ارب روپے ابھی شروعات ہیں، مزید مدد بھی کرتے رہیں گے۔ انہوں نے وزیر اعلی گلگت بلتستان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ سیاحت پر خصوصی توجہ مرکوز کریں، اگر یہ شعبہ سنبھال لیا تو آپ مرکز سے نہیں بلکہ مرکز آپ سے پیسہ مانگے گا، یہاں جس نعمت سے یہ علاقہ مالامال ہے اس کا ادراک ہی نہیں، یہاں گرمیوں اور سردیوں کی سیاحت کے وسیع مواقع ہیں، گرمیوں میں تو ویسے ہی لوگ یہاں آتے ہیں جبکہ سردیوں میں یہاں سکیم کے مواقع ہیں، سوئٹزرلینڈ میں اس سے زیادہ آمدن ہوتی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم اس مقصد کے لئے آپ کو قرض دلوائیں گے، منصوبہ بندی سے اس شعبہ کے لئے کام کیا جائے، ہم نے علاقے خراب کر دیئے، ٹائون پلاننگ کا فقدان رہا، گندگی ہے، جنگلات کی دیکھ بھال اور حفاظت نہیں کی، سوئٹزرلینڈ میں جنگلات، چراگاہوں اور گھروں کی تعمیر کے لئے علاقے مختص ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان کا کمیونٹی سسٹم بہت مضبوط ہے، یہاں لوگ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، یہاں امن ہے، اس لئے یہاں بائی لاز پر عمل آسان ہوگا، بلدیاتی انتخابات سے یہاں نظام بہتر کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان پیکیج سے ہائیڈل پاور، سیاحت کا مربوط نظام، بابوسر ٹنل، یوتھ سکلز و سکالرشپ اہم پروگرام ہیں، صحت کے شعبہ کو اپ گریڈیشن کرنی ہے، ہیلتھ کارڈ شروع کیا گیا جو ہیلتھ انشورنس ہے، سسٹم بہتر ہوگا تو انفراسٹرکچر بہتر ہوگا، انفراسٹرکچر بہتر کرنا ہے، گلگت اور سکردو میں واٹر سنیٹیشن ضروری ہے، یہاں سمال و میڈیم انڈسٹری کامیاب ہوگی، اس میں مدد کریں گے، سکردو ائیرپورٹ پر عالمی پروازیں شروع کریں گے، گلگت کے ائیرپورٹ کو وسیع کریں گے۔

گلگت بلتستان کو سارے فیصلے خود کرنے کا اختیار دیا
انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کے حوالے سے یہ تاثر تھا کہ پاکستان اس علاقہ سے سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہا ہے، لوگوں کے پاس اختیار نہیں تھا، مرکز سے آنے والا خود کو وائسرائے سمجھتا تھا، مرکز میں یہ سوچ تھی کہ یہاں لوگوں میں اپنے معاملات دیکھنے کی صلاحیت ہی نہیں، ہم نے اسے صوبائی درجہ دیا، سارے فیصلے خود کرنے کا اختیار دیا ہے تاکہ سارے اختیارات آپ کے پاس ہوں، یہاں کا مقامی فرد یہاں کے لئے بہتر فیصلہ کرسکتا ہے،اسلام آباد میں بیٹھ کر اس علاقے کے فیصلے نہیں ہوسکتے،اختیارات ملنے کے بعد اگر وزیر اعلی میں قابلیت ہو تو وہ خود اپنا صوبہ چلا سکتا ہے پھر ہمیں بھی ڈکٹیشن دینے کی ضرورت نہیں،یہ اپنے فیصلے خودکریں

انہوں نے کہا کہ ہم سب پاکستانی ہیں، وہ ملک کبھی عظیم نہیں بن سکتا جہاں انصاف اور قانون کی بالادستی نہ ہو، انصاف سے خوشحالی آتی ہے، قانون کی بالادستی کا مطلب امیر اور غریب کے لئے مساوی قانون ہے، قوموں کی تباہی اسی وجہ سے آئیں کہ امیر کے لئے الگ اور غریب و کمزور کے لئے الگ قانون تھا، جس قوم میں طاقتور کو قانون کے نیچے نہیں لایا جاسکتا وہاں خوشحالی نہیں آسکتی، جب بڑے لوگ چوری کرتے ہیں تو یہ ملک کی تباہی ہوتی ہے، وہ اربوں روپے لوٹ کر باہر لے جاتے ہیں کیونکہ اتنے پیسے یہاں نہیں چھپا سکتا، پوری دنیا میں مقروض ممالک کی یہی کہانی ہے، جب تک طاقتور کا احتساب نہیں ہوتا پٹواری یا کانسٹیبل کا احتساب کا کوئی فائدہ نہیں، نیب نے صرف ہمارے دور میں طاقتور مافیا پر ہاتھ ڈالا، یہ ہماری خوشحالی اور ہمارے بچوں کے مسقبل کی جدوجہد ہے، طاقتور کو قانون کے نیچے لانے سے 50 سال پہلے والا ملک بن سکتا ہے، تب تیزی سے ترقی ہو رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ میں جمہوریت پسند ہوں کسی آمر کی حمایت نہیں کر سکتا تاہم بعد کے حکمرانوں کی جانب سے پیسہ بنانے کی وجہ سے ملک اوپر نہیں گیا، قومیں اپنی آزادی اور خوشحالی جدوجہد سے حاصل کرتی ہیں، یہاں بدعنوان مافیا کے خلاف جدوجہد جاری ہے، میری تربیت ہی ان چوروں کو ہرانے کے لئے ہے۔ اس موقع پر وفاقی وزراء اسد عمر، علی امین گنڈاپور اور وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید نے بھی خطاب کیا۔
خبر کا کوڈ : 930071
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش