0
Tuesday 4 May 2021 21:53

حضرت علیؑ کی ذات کا منفرد پہلو عدل و انصاف کا نفاذ ہے، علامہ ساجد نقوی

حضرت علیؑ کی ذات کا منفرد پہلو عدل و انصاف کا نفاذ ہے، علامہ ساجد نقوی
اسلام ٹائمز۔ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے قائد علامہ سید ساجد علی نقوی نے امیر المومنین حضرت علیؑ ابن ابی طالبؑ کے یوم شہادت پر کہا ہے کہ امیرالمومنینؑ کی ذات کا ایک منفرد پہلو عدل و انصاف کا نفاذ ہے جو انہیں دنیا کے تمام حکمرانوں سے جدا اور منفرد کرتا ہے، آپؑ نے عدل و انصاف کا معاشروں، ریاستوں، تہذیبوں، ملکوں، حکومتوں اور انسانوں کے لیے انتہائی اہم اور لازم ہونا اس تکرار سے ثابت کیا کہ عدل آپؑ کے وجود اور ذات کا حصہ بن گیا اور لوگ آپؑ کو عدل سے پہچاننے لگے۔انہوں نے کہا کہ کردار امیرالمومنینؑ کے مطابق اپنے نفس کی تطہیر اور تزکیہ کر کے، نظام کی خرابیوں کو درست کرکے اور اپنے آپ کو منظم و متحد کرکے ہم ظلم، ناانصافی، بے عدلی، تجاوز، دہشت گردی اور دیگر چیلنجز کا مقابلہ کر سکتے ہیں کیونکہ امیرالمومنین حضرت علیؑ ابن ابی طالبؑ کے نظام حکمرانی اور نظام احتساب سے استفادہ کرکے امت مسلمہ کے موجودہ حالات اور خراب صورتحال کو درست کیا جا سکتا ہے۔

علامہ ساجد نقوی کا مزید کہنا تھا کہ حضرت علیؑ نے بیک وقت تطہیر نفس اور تطہیر نظام کی طرح ڈالی اور اسے عملی طور پر ثابت کر دکھایا، آپؑ نے تطہیر نفس کے لیے تقویٰ، شب بیداری، عبادت، حسن سلوک، عاجزی، انکساری اور تواضع جیسی صفات اختیار کیں جبکہ تطہیر نظام و معاشرہ کے اسلامی نظام حیات کے تحت عدل، انصاف، اعتدال، توازن، حقوق کے حصول کے لئے بھرپور عملی اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ امیرالمومنینؑ کی زندگی تعلیمات قرآنی اور سیرت رسول اکرم (ص) کا عملی نمونہ اور روشن تفسیر کے طور پر موجود ہے۔ اسی تربیت کی وجہ ہے کہ امیرالمومنینؑ کا دور حکومت بہت سارے بحرانوں کے باوجود کامیاب دور حکومت تھا۔ علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ حضرت علیؑ نے اپنے دور حکومت میں مثبت اور تعمیری سیاست کی داغ بیل ڈالی۔ حزب مخالف کی سازشوں اور منفی حربوں کا حکمت عملی، دانش مندی اور مسلمانوں کے اجتماعی مفاد کو دیکھتے ہوئے مقابلہ کیا، حکمرانی کا خدمت کا ذریعہ اور خدا کی طرف سے عطا کردہ امانت قرار دیا اور اس کی ایسے ہی حفاظت کی جس طرح خدا کی امانتوں کی حفاظت کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ علوی سیاست کا یہ امتیاز رہا ہے کہ امیر المومنینؑ نے حکومت کا حصول کبھی ہدف نہیں سمجھا بلکہ اپنے اصلی اور اعلی ہدف تک پہنچنے کا ذریعہ قرار دیا۔ ان کے اقوال و فرامین حکمرانوں کے لئے روشن مثالیں ہیں کہ وہ گڈ گورننس قائم کرتے وقت کس طرح اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اور انصاف کا قیام کسی مصلحت کے بغیر کرتے ہیں۔ 
خبر کا کوڈ : 930752
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش