0
Wednesday 5 May 2021 09:25

اہلسنت علماء کی گورنر سے ملاقات، گرفتار کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ

ہم ٹی ایل پی کی حکمت عملی کی حمایت نہیں کرتے، علماء کی وضاحت
اہلسنت علماء کی گورنر سے ملاقات، گرفتار کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ
اسلام ٹائمز۔ ممبر رویت ہلال کمیٹی علامہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی کی قیادت میں اہلسنّت رہنماوں نے گورنر پنجاب چودھری محمد سرور سے ملاقات کی۔ علماء وفد نے  کالعدم تحریک لبیک پاکستان کیساتھ دیگر مذہبی جماعتوں کے کارکنوں کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا اور بتایا کہ ٹی ایل پی کے گرفتار افراد میں دوسری تنظیموں کے افراد کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے، اہلسنت پُرامن ہیں، کسی مجرم کی حمایت نہیں کریں گے، مگر چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرکے بے گناہ افراد کو بھی اُٹھا لیا گیا، اس معاملے میں جامعہ نعیمیہ اور جامعہ رسولیہ سراجیہ جیسے مدارس کے طلباء کو بھی گرفتار کیا گیا، جن کا ٹی ایل پی سی کوئی تعلق نہیں۔ اہلسنت رہنماوں نے کہا کہ ہم ٹی ایل پی کی حکمت عملی کی حمایت نہیں کرتے لیکن ناموس رسالت کا تحفظ ہر مسلمان کے دل کی آواز ہے۔

گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے اہلسنت رہنماوں سے بیگناہ گرفتار افراد کی فہرست طلب کر لی، جنہیں 16 ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ 1800 افراد کو رہا کر دیا گیا ہے لیکن جن افراد پر مقدمات ہیں، وہ عدالتوں سے رجوع کریں۔ گورنر پنجاب نے علماء سے توہین رسالت قانون کے غلط استعمال کو روکنے کی بھی اپیل کی، جس پر علامہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے غلط فہمیوں کے ازالے کیلئے وفاق کی طرز پر پنجاب میں بھی اقلیتی کمیشن قائم کرنے کی تجویز دی۔ ملاقات کرنیوالے وفد میں ناموس رسالت محاذ کے مولانا محمد علی نقشبندی، صاحبزادہ پیر بشیر احمد یوسفی، سنی اتحاد کونسل کے مفتی حسیب قادری، جمعیت علماء پاکستان نورانی کے حاجی نعیم نوری، سنی تحریک کے طاہر ڈوگر، مولانا طاہر شہزاد سیالوی اور ذوالفقار مصطفیٰ ہاشمی شامل تھے۔
خبر کا کوڈ : 930833
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش