0
Wednesday 5 May 2021 22:10

شبقدر رحمتوں کے نزول اور گناہوں کی مغفرت کی رات ہے، علامہ ساجد علی نقوی

شبقدر رحمتوں کے نزول اور گناہوں کی مغفرت کی رات ہے، علامہ ساجد علی نقوی
اسلام ٹائمز۔ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے 23 رمضان المبارک شب قدر کے موقع پر کہا ہے کہ شب قدر یا لیلة القدر مسلمانوں کے درمیان سال کی سب سے زیادہ فضیلت رکھنے والی رات ہے۔ قرآن کریم میں مکمل ایک سورہ ”شب قدر“ کے بارے میں نازل ہوئی، خداوند کریم خود سورہ قدر کے اندر فرماتا ہے کہ ”وما ادرک مالیلة القدر“ تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے۔ اس کے بعد فوراً بغیر فاصلہ کے اسی رات کی عظمت و بزرگی بارے ارشاد خداوندی ہے۔” لیلة القدر خیر من الف شہر“ شب قدر ہزار ماہ سے بہتر ہے۔ نبی کریم (ص) کا ارشاد ہے کہ اللہ نے دنوں میں سے جمعہ کو، مہینوں میں سے ماہ رمضان کو اور راتوں میں سے شب قدر کو اپنے لیے اختیار کیا ہے۔ شب قدر ماہ رمضان میں عبادتوں کی معراج والی رات ہے۔ اسی رات قرآن کریم قلب نبی کریم (ص) پر نازل ہوا۔ انسان کی زندگی بارے فیصلہ جات کا یقین اسی رات کیا جاتا ہے۔ امام صادقؑ نے فرمایا سال کی ابتدا شب قدر سے ہے۔ اسی رات اس سال کے آغاز سے آئندہ سال کے آغاز تک کے انجام ہونے والے کام لکھے جاتے ہیں۔ اسی رات کے اہم اعمال میں سے ایک عمل شب داری ہے۔

امام کاظمؑ نے فرمایا ”من اغتسل لیلة القدر واحیاھا الی طلو ع فجر خرج من ذنوبہ“ جو شب قدر غسل کرے اور طلوؑ صبح تک بیدار رہے اور مشغول عبادت رہے وہ اپنے گناہوں سے پاک ہو جائے گا۔ اس پرُ برکت رات میں قرآن مجید انسانیت کی ہدایت کیلئے نازل ہوا۔ فرشتگانِ الٰہی فوج در فوج زمین پر نازل ہوتے ہیں۔ روزہ دار کو چاہیئے کہ اس بابرکت رات سے استفادہ کے لیے انتہائی سعی و کوشش کرے تاکہ اس رات کی برکات سے فیض یاب ہوسکے۔ اس رات سے صحیح استفادہ کیلئے ہمیں اہلبیتؑ سے منقول عظیم دعاﺅں کے مجموعوں سے استفادہ کرنا چاہیئے۔ دعا اپنے مالک سے التجا اور گناہوں کیلئے بخشش کیلئے بہترین ذریعہ ہے۔ علامہ ساجد نقوی نے ہفتہ نزول قرآن (23 تا 29 رمضان المبارک) کے موقع پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نزول قرآن کے بارے میں معلومات، تلاوت کلام پاک کی فضیلت، قرآن شناسی قرآن فہمی کی اہمیت، قرآن کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا، قرآنی حکام کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے اور معاشرے میں رائج کرنا اور اس کی ضرورت ہے اور ہر سال ان نکات کی روشنی میں درج ذیل موضوعات 23 رمضان کو جشن نزول قرآن، 24 رمضان کو ثقافت قرآن، 25 رمضان کو قرآن اور اہلبیتؑ، 26رمضان کو قرآن اور خواتین، 27 رمضان کو یوم پاکستان، 28 رمضان کو یوم جہاد شہادت اور 29 رمضان کو وحدت اُمت اور حکومت قرآن پر کام کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ کتاب الٰہی ہر دور کے انسانوں اور بالخصوص مسلمانوں کے مسائل کی گتھیاں سلجھانے کے تمام تر نسخے اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ جونہی ہم نے کلام خدا کی جانب خضوع و خشوع کے ساتھ رغبت کی اور اس کے مفاہیم و معانی کو اپنے قلب و روح میں جگہ دی تو تمام تر مصائب و مشکلات کا خاتمہ ہوجائے گا۔ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ بارگاہ خداوندی میں اپنے گناہوں کی بخشش اور کلام خداوندی کے ساتھ اپنا تمسک کرکے دعا و مناجات کے ذریعے اپنی کوتاہیوں کے ازالے کا رمضان المبارک سے بہتر اور کوئی موقع نہیں، ایسے مبارک مہینے جس میں کتاب خدا کا نزول ہوا اور جس میں شب قدرجیسی عظیم شب ہے ، ہم اس ماہ میں اپنے نفس کا محاسبہ کرکے دنیا اور آخرت دونوں میں سرخرو ہوسکتے ہیں۔ آج بھی اگر امت مسلمہ اپنی زبوں حالی کے خاتمے اور اپنی روحانی فکر کو جلا بخشنے کے لئے قرآن مجید کی طرف حقیقی معنوں میں رجوع کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کے تمام مسائل و مشکلات کا خاتمہ نہ ہوسکے۔ قرآن ایک حقیت واقع ہے جو تمام حقائق سے مافوق ہے۔
خبر کا کوڈ : 930954
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش