?>?> گلگت میں خود کو نہیں فرقہ واریت کو جلایا جائے، علامہ سید جواد نقوی - اسلام ٹائمز
0
Wednesday 19 May 2021 13:36

گلگت میں خود کو نہیں فرقہ واریت کو جلایا جائے، علامہ سید جواد نقوی

فتنے کی آگ مسلک پوچھ کر نہیں جلاتی، سب کچھ خاکستر کر دیتی ہے
گلگت میں خود کو نہیں فرقہ واریت کو جلایا جائے، علامہ سید جواد نقوی
اسلام ٹائمز۔ مجمع المدارس تعلیم الکتاب والحکمہ اور تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ سید جواد نقوی نے گلگت بلتستان کی عوام کے نام اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ اب جبکہ فلسطین پر صیہونیوں نے مظالم کی انتہا کر رکھی ہے اور پورا عالم اسلام اسرائیلی بربریت و جارحیت کا نشانہ بننے والے مظلوم فلسطینیوں کیلئے رنجیدہ ہے اور پورا عالم بشمول ملتِ پاکستان ان سے ہمدری کا اظہار کر رہی ہے، ایسے میں گلگت سے تشویشناک قسم کے مسائل سامنے آرہے ہیں۔ معروف شیعہ عالم دین آغا سید راحت حسین الحسینی نے اپنے عید کے خطبے میں کچھ مطالب بیان کئے، جس کے ردعمل میں دیگر مسالک کے علماء نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے، جس سے گلگت کا مسالمت آمیز ماحول متاثر ہوا ہے۔ وحدت اسلامی کی اس تہذیب کے احیاء میں خود آغا راحت حسین الحسینی کا اہم و مرکزی کردار رہا ہے، چونکہ ان کی شخصیت گلگت بلتستان کے تمام طبقات کیلئے قابل قبول ہے، وہ خود وحدت کی علامت سمجھے جاتے رہے ہیں اور اس سلسلے میں علماء اہلسنت اور دیوبند کے بڑے اکابرین سے ملاقاتیں بھی کی ہیں، لیکن انہی کے ایک بیان سے فضا مکدر ہوگئی ہے۔

علامہ جواد نقوی نے کہا کہ ان کی بات کا درست معنی و مطلب بھی بنتا تھا اور رسول اللہ (ص) سے مروی حدیت شریف میں بھی وارد ہوا ہے کہ اگر  آپ کا کوئی بھائی بات کرتا ہے اور اس کی بات کے اندر 99 فیصد غلط مطالب نکلتے ہوں اور ایک فیصد احتمال ہو کہ اس کی بات کا صحیح مطلب بھی نکل سکتا ہے تو مومن کو چاہیئے کہ ہر چند وہ احتمال ضعیف ہو، وہ اس ایک فیصد کا معنی مراد لے۔ انہوں نے کہا کہ سید راحت الحسین الحسینی کا مقصود وہ درست معنی ہی تھا اور وہ اہلبیتؑ سے تمسک، ان کی اتباع اور راہ نجات کے طور پر ان کا دامن تھامنے کی دعوت تھی، جس پر تمام مسالک اہلسنت، شیعہ اور اسماعیلی مکتب فکر کا بغیر کسی تفریق کے کامل ایمان ہے۔

سید جواد نقوی نے باقی مسالک کے علماء اور اسماعیلی مکتب سے بھی اپیل کی کہ بھڑکے ہوئے جذبات وہاں کی مسالمتی فضا کیلئے نقصان دہ ہیں اور یہ چنگاری بہت ضرر پہنچا سکتی ہے، پہلے بھی وہاں فرقہ واریت اور مسلکی اختلافات کو ہوا دینے کا نقصان ہوا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اس خطے پر اپنی رال ٹپکانا شروع کر دی، یہ خطہ حساسیت رکھتا ہے، دشمنوں کی اس پر نگاہ ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اس خطے کے امن کو خراب کرکے پاکستان بھر میں ناامنی ایجاد کریں اور پاکستان کی معیشتی رگ سی پیک کو ناکام کرسکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ شرمندگی کی بات ہے کہ ہم کشمیر کیلئے کوئی آواز نہیں اٹھا سکے اور جب نریندر مودی کشمیر پر قبضہ کر رہا تھا تو ہم فرقہ واریت میں لگے ہوئے تھے، ایک دوسرے کیخلاف ریلیاں اور بیان بازیاں کر رہے تھے۔ ان زبانی لغزشوں کے چھوٹے مسائل کو ایشو بنا کر بحران بنانا اخلاقاً، شرعاً و قانوناً درست بات نہیں۔ کسی بھی حوالے سے یہ فضا مناسب نہیں، خصوصاً اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں جب ہمارے پاس ہم آواز ہونے کا موقع ہے، ایسے میں مسلمانوں کی باہمی ہم آہنگی کا مرکز مسئلہ فلسطین ہونا چاہیئے۔ چنانچہ ہمیں تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر فقط تمرکز اسی مسئلے کی طرف رکھنا ہے اور ملت فلسطین کی حمایت جاری رکھنی ہے۔

 سید جواد نقوی نے گلگت بلتستان کی باشعور قوم اور تمام مسالک کے علماء جو حالات کی نزاکتوں کو سمجھتے ہیں، سے اپیل کی ہے کہ وحدت کے پیغام سے ان تمام خدشات کو دور کر دیں اور تمام دشمنوں کو مایوس کریں اور اپنے اعلیٰ ظرف ہونے کا ثبوت دیں۔ انہوں نے تمام اہلیان گلگت بلتستان سے بروز جمعہ فلسطین کیساتھ یکجہتی کیلئے مشترکہ پروگرام رکھنے اور جمعہ کو وحدت کے عنوان سے برگزار کرنے کی تاکید کی، جس میں تینوں جمعیتوں کے علماء، روساء اور قائدین فلسطینی برادران کیساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔ پورے پاکستان میں یہ دن منایا جا رہا ہے اور گلگت میں سب سے زیادہ باشکوہ انتظام ہونا چاہیئے۔ اس طرح جو عناصر ناامنی پیدا کرنے کیلئے بہانے ڈھونڈتے ہیں، ان کے بھی منہ بند ہونے جاہیئں، مودی جیسے افراد جو گلگت بلتستان کی نسبت اچھے عزائم نہیں رکھتے، انہیں بھی مایوسی ہو اور سب سے بڑھ کر صہیونی جو پاکستان کے بھی دشمن ہیں، عالم اسلام کے دشمن ہیں، وہ بھی نامراد ہو جائیں۔

سید جواد نقوی نے میڈیا سے بھی ذمہ دارانہ کردار کی درخواست کی کہ ایسے میں مناسب ہی نہیں کہ ہمیں مسئلہ فلسطین کے علاؤہ کوئی اور موضوع چھیڑنا چاہیئے۔ سوشل میڈیا کو اپنی ریٹنگ بڑھانے اور پیجز کا پیٹ بھرنے اور فتنوں کو ہوا دینے کیلئے استعمال نہ کریں، چونکہ جب فتوں کی آگ لگتی ہے تو پھر سارے جلتے ہیں، اس کے اندر فتنہ مسلک کا پوچھ کر نہیں جلاتا۔ یہ ایک یادگار جمعہ ہوگا، جس میں قائدین ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اعلان کریں گے کہ ہم ایک ہیں، ہر ایک اپنے مکتب، اپنے مقدسات کے احترام کیساتھ اور دوسروں کے مقدسات و عقائد کے احترام کیساتھ ایک دوسرے کو گلے لگائے اور جو چیز آگ میں جلنی چاہیئے، وہ فرقہ واریت اور مسلمان دشمنوں کے ناپاک عزائم ہیں۔
خبر کا کوڈ : 933365
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش