0
Monday 7 Jun 2021 20:21
عزاداری منعقد کرنا ہمارا آئینی حق ہے، اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، امتیازی سلوک بند کیا جائے

ایم ڈبلیو ایم نے سرکاری مذہبی اداروں میں اہل تشیع کی نمائندگی بڑھانے کا مطالبہ کر دیا

متعصب شخص کو متحدہ علماء بورڈ کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے، علامہ اسدی کی پریس کانفرنس
ایم ڈبلیو ایم نے سرکاری مذہبی اداروں میں اہل تشیع کی نمائندگی بڑھانے کا مطالبہ کر دیا
اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ عبدالخالق اسدی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب انتظامیہ مکتب اہلبیت علیہم السلام سے متعصبانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہے، کورونا ایس او پیز کی آڑ میں ملت جعفریہ کو دیوار سے لگانے کی سازش کی شدید مذمت کرتے ہیں، یوم علی (ع) سمیت عزاداری کے پروگرامز منعقد کرنا ہماری عبادت ہے اور مظلوم فلسطینیوں کی حمایت ہمارے ایمان کا تقاضا ہے، اس سے بڑی منافقت کیا ہو گی کہ ملت جعفریہ ہر سال کی طرح اس سال بھی مظلوم فلسطینی مسلمانوں کے حق میں احتجاجی مظاہرے کرے تو ہم پر جھوٹی ایف آئی آر درج ہو جائیں اور یوم علی علیہ السلام منانے پر بھی ایف آئی آر درج ہو جائیں، جبکہ وزیراعظم عمران خان کے اعلان پر فلسطینیوں کے حق میں ریلیاں نکالی جائیں تو انہیں سراہا جائے۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی مذہبی ادارہ جات میں ملت تشیع کیساتھ مذہبی تعصب کی انتہا کر دی گئی ہے، متحدہ علماء بورڈ میں شیعیان حیدرار کے علماء کی تعداد دیوبندی اور اہلسنت بریلوی کے مقابلے میں 50 فیصد کم کر دی گئی ہے۔ ایک متعصب شخص کو متحدہ علماء بورڈ کا چیئرمین مقرر کیا گیا، متحدہ علماء بورڈ کے موجودہ سیشن کے دو سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود تا حال شیعہ علماء کی تعداد کو دوسرے مسالک کی تعداد کے برابر نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ متعصب ذمہ دار کی آمد سے قبل متحدہ علماء بورڈ کے گزشتہ سیشنز میں ملت جعفریہ کے علمائے کرام کی تعداد دیگر مسالک کے علماء کی تعداد کے برابر تھی۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد بین المسلمین کمیٹی میں بھی شیعہ حضرات کی تعداد کم رکھی گئی ہے۔ قرآن بورڈ میں بھی متعصبانہ رویہ اپنانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ علامہ اسدی نے کہا کہ ہمارا وزیراعلٰی پنجاب عثمان بزدار اور سیکرٹری اوقاف سے مطالبہ ہے کہ اس متعصبانہ رویہ کا ازالہ کریں، اگر متحدہ علماء بورڈ میں شیعہ علماء کی تعداد باقی مسالک کے برابر نہ کی گئی تو مورخہ 25 جون کو محکمہ اوقاف کے دفتر کے باہر لاہور میں علامتی دھرنا دیا جاۓ گا۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کے اضلاع میں خصوصی طور پر چنیوٹ کے عزادار شہریوں پر بے جا جھوٹے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں اور انہیں شیڈول فور میں ڈالا جا رہا ہے، ہم کبھی بھی چنیوٹ کے عزاداروں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، چنیوٹ کا متعصب ایم پی اے اور متعصب ڈی پی او ملت جعفریہ کو دیوار سے لگانے کی سازش میں گٹھ جوڑ کیے بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر قانون راجہ بشارت سے ہمارے مذاکرات کے باوجود چنیوٹ کے معاملے پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے، محرم الحرام سے قبل عزاداری کے معاملے پر ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں عزاداری کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا اور اگر متحدہ علماء بورڈ اور دیگر سرکاری کمیٹیوں میں ملت جعفریہ کیساتھ سازشوں کا سلسلہ جاری رہا تو مورخہ 25 جون کو محکمہ اوقاف کے دفتر کے باہر لاہور میں علامتی دھرنا دیا جاۓ گا۔
خبر کا کوڈ : 936685
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش