0
Wednesday 9 Jun 2021 00:39

محمود اچکزئی، اسفند یار ولی کی ملک و قوم دشمنی پوری سب پر عیاں ہے، جمشید دستی

محمود اچکزئی، اسفند یار ولی کی ملک و قوم دشمنی پوری سب پر عیاں ہے، جمشید دستی
اسلام ٹائمز۔ عوامی راج پارٹی کے سربراہ جمشید احمد دستی نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کو مزید دو سال پورے کرنے دیئے گئے تو خونی انقلاب کا راستہ کوئی نہیں روک سکے گا، 75 سالوں سے آئی ایم ایف کے عوام دشمن بجٹ کی وجہ سے اب بائیس کروڑ قوم میں اتنی سکت نہیں رہی کہ وہ مزید آئی ایم ایف کا بوجھ اٹھا سکے، اسی لئے عوام دوست بجٹ لایا جائے، کالا باغ ڈیم بن جاتا تو آج تمام صوبوں کو پانی مل رہا ہوتا اور ایک دوسرے کے دشمن نہ ہوتے، حق سچ کی آواز بلند کرنے پر مجھ پر 85 جھوٹے مقدمے بنا دیئے گئے لیکن میں گھبرانے والا نہیں ہوں، کرپٹ سیاستدانوں کی سیاہ کاریوں سے پردہ اٹھاتا رہوں گا، اب بھی وقت ہے کہ سوئی ہوئی قوم کرپٹ سیاستدانوں کے خلاف اٹھ کھڑی ہو، باہر سے کوئی نہیں آئے گا، کیونکہ سوئی قوم کی وجہ سے ہی ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے، اگر مہذب معاشرے میں ٹرین حادثہ رونما ہوتا تو اب تک وزیر ریلوے کو پھانسی پر چڑھا دیا جاچکا ہوتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

جمشید احمد دستی نے مزید کہا کہ لوٹ کھسوٹ، لاقانونیت، بڑھتی ہوئی مہنگائی، چوری، ڈکیتی، اغوا، تاوان، قتل جیسے سنگین واقعات کی وجہ سے ملک اندھیرے میں ڈوب گیا ہے اور قومی ادارے تک تباہ کر دیئے گئے ہیں، ایٹمی طاقت ہونے کی وجہ سے گذشتہ 75سالوں میں کون سی ترقی ہوئی ہے، یہاں تک کہ میڈیا کا گلہ تک دبایا جا رہا ہے، تاکہ وہ کرپٹ و مکروہ چہروں کو بے نقاب نہ کرسکے، جمہوریت کے روپ میں آمریت سے بدتر مثال قائم ہوگئی ہے، پاکستان کے 98 فیصد سیاستدان کرپٹ اور ظالم ہیں، کوئی لیڈرشپ نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ ملک انارکی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ محمود اچکزئی، اسفند یار ولی کی ملک و قوم دشمنی پوری قوم کے سامنے عیاں ہے، زرداری، بلاول، مراد شاہ نے برطانیہ کو راضی کیا، ڈیم نہیں بننے دیا، آج اگر کالا باغ ڈیم بنا ہوتا تو سب صوبوں کو پانی ملتا اور ایک دوسرے کے دشمن نہ ہوتے۔

جمشید دستی نے کہا کہ میں نے مولانا فضل الرحمن کو کہا تھا کہ وہ پی ڈی ایم میں شامل نہ ہوں، اس وقت ہماری نہیں سنی گئی اور آج وہ شرمندہ شرمندہ ہیں، کیونکہ چوروں کی ٹیم میں کوئی بھی ملک و قوم کے مفاد میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے بلدیاتی نظام کی بحالی کے احکامات کو نیازی حکومت نے ہوا میں اڑا دیا، دو ماہ ہوگئے، عوامی نمائندوں کو اختیارات نہیں دیئے جاسکے، جس کی وجہ سے عوامی نمائندے سڑکوں پر اجلاس بلا رہے ہیں، ہم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں، لیکن اگر دو وزرائے اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور میاں نواز شریف کو سپریم کورٹ فارغ کرسکتی ہے تو بلدیاتی نظام کے فیصلے پر موجودہ حکومت کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیا جاتا، اگر لادی گینگ نے موجودہ نظام پر ایک سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے، حکومت کے پاس اتنی بڑی مشینری ہونے کے باوجود ابھی تک وہ شکنجے میں نہیں آسکے۔
خبر کا کوڈ : 937031
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش