0
Thursday 10 Jun 2021 23:22

امید ہے کہ وزیر خزانہ بجٹ میں پاور ٹیرف اور دیگر ٹیکسز نہ بڑھانے کے وعدے پر قائم رہیں گے، سراج الحق 

امید ہے کہ وزیر خزانہ بجٹ میں پاور ٹیرف اور دیگر ٹیکسز نہ بڑھانے کے وعدے پر قائم رہیں گے، سراج الحق 
اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت نے پاور سیکٹر، بینکوں، پی آئی اے، پاکستان ریلوے سمیت سینکڑوں قومی اداروں کو بیچنے کا پروگرام تشکیل دیا ہے، جس سے اقتصادی بحران اور بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوگا۔ امید ہے کہ وزیر خزانہ بجٹ میں پاور ٹیرف اور دیگر ٹیکسز نہ بڑھانے کے اپنے وعدے پر قائم رہیں گے۔ گیس کی عدم دستیابی کی وجہ سے پاور پلانٹس بند پڑے ہیں، شہروں اور دیہاتوں میں آٹھ آٹھ گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، جب پاور پلانٹس آپریشنل نہیں ہیں تو ان کو کپیسٹی پے منٹ کیوں کی جا رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز منصورہ سے جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کیا۔ سراج الحق نے کہا کہ اقتصادی سروے میں جتنے ٹارگٹ سیٹ کیے گئے ہیں، ان میں سے موجودہ حکومت نے ایک بھی پورا کر دیا تو بڑی بات ہوگی۔

ایس ایم ایز کو بلاسود قرضے دیئے جائیں۔ کسانوں تک ڈائریکٹ سبسڈی پہنچانے کے وعدے سہانے ہیں، لیکن کاش ان پر عمل درآمد بھی ہو۔ بینکوں سے 80 سے 85 فیصد قرضے کارپوریٹ سیکٹر لیتا ہے اور بعد میں یہ قرضے معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ قرضوں کے سہارے گروتھ میں اضافہ شو کرکے حکومت حقائق پر پردہ نہیں ڈال سکتی۔ ملک کی ساٹھ فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، حکومت بجٹ میں ان کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا واضح پروگرام دے۔ برآمدات میں اضافہ کی رپورٹس مان لیتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ملک میں کپاس کی پیداوار میں 30 فیصد سے زیادہ کمی ہوگئی ہے۔ لیدر اور کاٹن ایکسپورٹ میں کمی سے ملک کثیر زرمبادلہ سے محروم رہا۔ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مہنگائی، غربت اور بے روزگاری کو فوکس کرے اور عوام کو ریلیف دے۔ سراج الحق نے کہا کہ وزیر خزانہ نے اعتراف کر لیا ہے کہ ان کی حکومت گذشتہ تین سالوں میں تنخواہ دار اور غریب طبقہ کو کوئی ریلیف نہیں دے سکی، جبکہ آئندہ کے لیے وعدے وعید کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے یہ بھی تسلیم کر لیا ہے کہ ٹیکس آمدن میں اضافہ دراصل ٹیکس نیٹ ورک بڑھانے سے نہیں بلکہ پہلے سے پسے ہوئے طبقے پر مزید بوجھ ڈالنے سے ہوا ہے۔ حکومت کی آئی ایم ایف کی شرائط نہ مان کر بجٹ تیار کرنے کی حقیقت کا اندازہ ایک دو ماہ بعد ہوگا۔ امیر جماعت نے کہا کہ حکومت سٹیٹ بنک کی نجکاری سے باز رہے اور ملک کی معیشت کو سود سے پاک کرے۔ پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانے کے دعوے داروں کو بتانا چاہتا ہوں کہ سود اللہ اور رسول سے جنگ ہے۔ اگر ملک کو اقتصادی طور پر مضبوط کرنا ہے تو خود انحصاری کی طرف جانا ہوگا۔ کرپشن اور سرمایہ داری کلچر کو فروغ دینے سے معیشت مضبوط نہیں ہوگی۔ ملکی آمدن میں اضافہ کے لیے مگر مچھوں پر ہاتھ ڈالنا اور مافیاز کی لوٹ مار کو بند کرنا ہوگا۔ تنخواہ دار طبقہ، چھوٹے تاجروں اور کاروباری حضرات پر شکنجہ کس کے آمدن کو زیادہ ظاہر کرنے کے حربے کامیاب نہیں ہوں گے بلکہ اس سے بے روزگاری اور غربت میں مزید اضافہ ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 937396
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش