0
Friday 11 Jun 2021 13:31

آزادکشمیر، قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 25 جولائی کو منعقد کرنے کا اعلان

آزادکشمیر،  قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 25 جولائی کو منعقد کرنے کا اعلان
اسلام ٹائمز۔ آزاد جموں و کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) جسٹس (ریٹائرڈ) عبدالرشید نے اعلان کیا ہے کہ خطے کی قانون ساز اسمبلی کے لیے عام انتخابات 25 جولائی کو عیدالاضحیٰ کے تیسرے یا چوتھے روز منعقد ہوں گے۔ سول سیکریٹریٹ کے کمیٹی روم میں الیکشن کمیشن کے آئینی طور پر مقرر کردہ اراکین راجہ فاروق نیاز اور فرحت علی میر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں کہا کہ تمام تر انتظامات کر لیے گئے ہیں اور یہ یقینی بنایا جا رہا ہے کہ دسویں عام انتخابات آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انداز میں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ 45 براہ راست نشستوں میں سے 33 آزاد جموں و کشمیر کے علاقے میں واقع ہیں جہاں 28 لاکھ 17 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جن میں 12 لاکھ 97 ہزار خواتین شامل ہیں جبکہ 12 پاکستان کے دیگر حصوں کی ہیں جس کے 4 لاکھ 30 ہزار 456 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جن میں ایک لاکھ 70 ہزار 931 خواتین شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان 12 نشستوں پر انتخابات کرانے کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان اپنے عہدیداران کو ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز (ڈی آر اوز) اور ریٹرننگ آفیسرز (آر اوز) کے عہدے پر آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن کے حوالے کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اقدامات کے لیے آزاد جموں و کشمیر کا الیکشن کمیشن اور اس کی حکومت متعلقہ صوبائی حکومت سے درخواست کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پولنگ کے دن امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے الیکشن کمیشن فوج کی مدد حاصل کرنے کی پوری کوشش کرے گا لیکن فوج کے جوانوں کی عدم دستیابی کی صورت میں شہری مسلح افواج اور نیم فوجی دستوں جیسے رینجرز، فرنٹیئر کور کو طلب کیا جائے گا۔ سی ای سی نے انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد نئی ترقیاتی اسکیموں کا اعلان کرنے یا اس پر عمل کرنے اور کسی تقرر و تبادلے کرنے پر پابندی لگا دی گی ہے۔ تاہم منتقلی کے ناگزیر معاملات میں حکومت کو کمیشن کی پیشگی اجازت لینی ہو گی۔ ایک صحافی کے سوال کے جواب میں الیکشن کمیشن کے رکن راجہ فاروق نیاز نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کسی بھی تقرر کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اُمید ظاہر کی کہ حکومت اس پابندی کا احترام کرے گی۔ شیڈول بتاتے ہوئے سی ای سی نے کہا کہ امیدواروں کی جانب سے کاغذات نامزدگی 21 جون کی شام 4 بجے تک آر اوز کو جمع کروائے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اگلے روز صبح 8 بجے سے جانچ پڑتال کی جائے گی اور اسی شام آر اوز کی جانب سے نامزد امیدواروں کی فہرستیں شائع کی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ 27 جون کو شام 2 بجے تک آر اوز کی جانب سے کاغذات نامزدگی کی منظوری یا مسترد ہونے کے خلاف اپیل دائر کی جا سکیں گی اور اپیلوں کی سماعت 28 اور 29 جون کو ہو گی جبکہ فیصلوں کا اعلان 30 جون اور یکم جولائی کو ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ امیدوار 2 جولائی تک کاغذات نامزدگی واپس لے سکتے ہیں اور مقابلہ کرنے والے امیدواروں کی فہرستیں اگلے روز شائع کی جائیں گی۔ پارٹیوں اور امیدواروں کو انتخابی نشان 4 جولائی کو شام 2 بجے سے پہلے الاٹ کیے جائیں گے اور امیدواروں کی حتمی فہرستیں اسی دن شائع کی جائیں گی جبکہ 25 جولائی کو صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک پولنگ ہو گی۔ سی ای سی نے سیاسی جماعتوں، امیدواروں اور ان کے ایجنٹس کے لیے 16 صفحات پر مشتمل "ضابطہ اخلاق" بھی پیش کیا جس میں قانونی اور آئینی تقاضوں اور دیگر گائیڈ لائنز پر سختی سے عمل پیرا ہونے کیا کہا گیا ہے۔ کچھ اہم نکات پڑھتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور وزرا سمیت کسی بھی امیدوار کو انتخابی مہم کے لیے سرکاری وسائل خصوصاً سرکاری گاڑیوں کا استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہو گی ورنہ الیکشن کمیشن انہیں انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دے گا اور متعلقہ گاڑی ضبط کر لی جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ شرط پاکستان کے حکومتی عہدیداروں پر بھی لاگو ہو گی جن میں وزیراعظم پاکستان، وفاقی وزرا، مشیر اور خصوصی معاونین شامل ہیں۔

ایک صحافی نے جب بتایا کہ آزاد جموں و کشمیر کے سابقہ صدور اور وزرائے اعظم کو ایک سرکاری گاڑی اور 400 لیٹر فیول یا اس کے برابر ہر مہینے کے اخراجات ملتے ہیں تو انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ انتخابی عمل میں اس کا استعمال نہیں کریں گے۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ کووڈ 19 کی صورتحال کی وجہ سے بڑے عوامی اجتماعات اور جلوسوں کی اجازت نہیں ہو گی لیکن ہر امیدوار متعلقہ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے منظور کی گئی تاریخ، وقت اور جگہ پر ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کے ساتھ ایک عوامی جلسہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر امیدوار 50 لاکھ روپے سے زیادہ انتخابی اخراجات نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ بڑے بڑے ہورڈنگز اور بل بورڈز، بڑے پینافلیکس پوسٹرز کے ساتھ ساتھ وال چاکنگ کی نمائش پر مکمل پابندی ہو گی اور اس کی خلاف ورزی کو غیر قانونی سرگرمی سمجھا جائے گا۔ سی ای سی نے اس اُمید کا اظہار کیا کہ تمام سیاسی جماعتیں خوشگوار ماحول کو یقینی بنائیں گی اور ذاتی حملوں یا اس طرح کے کسی اقدام سے گریز کریں گی جو خطے کے پرامن ماحول کو خراب کر سکے۔
خبر کا کوڈ : 937481
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش