0
Monday 14 Jun 2021 00:12

حکمرانوں کی عین ناک کے نیچے ٹارچر اور قتل کا سلسلہ جاری ہے، سینیٹر مشتاق خان

حکمرانوں کی عین ناک کے نیچے ٹارچر اور قتل کا سلسلہ جاری ہے، سینیٹر مشتاق خان
اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ راولپنڈی میں دیر بالا سے تعلق رکھنے والے 14 سالہ لڑکے کا پولیس کے ہاتھوں بدترین تشدد سے قتل فاشزم، بدترین ظلم اور سنگدلی ہے۔ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ کیسی پولیس ہے؟ کیا انکو بشری حقوق اور قانون کی پاسداری نہیں پڑھائی جاتی؟ واقعے سے لگتا ہے کہ یہ پولیس نہیں وردی پوش قاتل ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اسلامی لتعلیم البنین و البنات دیر میں ختم بخاری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی ضلع دیر بالا حنیف اللہ ایڈووکیٹ، سابق امیر مولانا اسعد اللہ، جے آئی یوتھ کے صوبائی نائب صدر مشتاق محمد اور جامعہ کے سرپرست مولانا حافظ فضل الرحمٰن سمیت دیگر رہنماء موجود تھے۔ اس موقع پر 31 فاضلات نے سند فراغت حاصل کی۔

مشتاق خان کا کہنا تھا کہ پولیس سٹیشن امن کے مراکز نہیں ٹارچرسیل ہیں۔ حکمرانوں کی عین ناک کے نیچے ٹارچر اور قتل کا یہ سلسلہ جاری ہے، جانی خیل سے اسلام آباد تک عوام ریاستی اداروں کے ظلم سے محفوظ نہیں، ان کا کہنا تھا کہ بجٹ الفاظ کا الٹ پھیر ہے، اس میں غریب عوام کے لئے کچھ نہیں ہے، بجٹ کے بعد منی بجٹ بھی آئیں گے جس میں نئے نئے ٹیکسوں کی نوید سنائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں ٹیکسوں کی بھرمار ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ انتہائی کم ہے، مزدوروں کی اجرت بھی مہنگائی میں اضافے کے حساب سے نہیں رکھی گئی۔ خیبر پختونخوا اور سابقہ فاٹا کو بجٹ میں حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔ تین فیصد این ایف سی سمیت نیٹ ہائیڈل پرافٹ اور تیل و گیس کی رائلٹی نہیں دی گئی۔ عوام دشمن بجٹ کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مدارس اسلامی تہذیب کے مراکز ہیں، مدارس، مساجد اور شعائر اسلام کے تحفظ کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
خبر کا کوڈ : 937904
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش