0
Tuesday 15 Jun 2021 22:20

اسلامی تحریک اور جے یو آئی آئینی صوبہ کیلئے مشترکہ جدوجہد پر متفق

اسلامی تحریک اور جے یو آئی آئینی صوبہ کیلئے مشترکہ جدوجہد پر متفق
اسلام ٹائمز۔ اسلامی تحریک اور جمعیت علماء اسلام نے آئینی صوبہ کیلئے مشترکہ جدوجہد پر اتفاق کر لیا۔ جماعت اسلامی، پاکستان مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی سے بھی مشاورت کی جائے گی۔ گلگت میں دونوں جماعتوں کے رہنمائوں کی اہم ملاقات کے بعد جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ ہماری منزل پاکستان ہے، مگر ہمیں سینہ سے لگانے کے بجائے دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔ اسلامی تحریک پاکستان نے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے تعین اور آئینی صوبہ کے حصول کیلئے ایک بار پھر کوششیں تیز کر دیں۔ اس سلسلے میں جمعیت علماء اسلام کے ساتھ مشاورتی اجلاس مقامی ہوٹل میں رکھا گیا، جس میں صوبائی امیر جے یو آئی مولانا عطاء اللہ شہاب کی قیادت میں جماعتی وفد نے شرکت کی اور دونوں جماعتوں نے مشترکہ جدوجہد کرنے اور دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں کے ساتھ رابطہ کرنے پر اتفاق کیا۔

اسلامی تحریک پاکستان کے صوبائی آرگنائزر شیخ میرزا علی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی تحریک پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ جی بی کی آئینی حیثیت کے تعین کیلئے اصولی موقف رکھتی ہے اور آج تمام سیاسی جماعتوں نے ہمارے موقف کی تائید کی ہے، جس کے سبب تمام سیاسی جماعتیں اسلامی تحریک کو گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے تعین کے حوالے سے میر کاروان کی حیثیت دیتی ہیں، جو ہمارے لئے ایک اعزاز ہے۔ جس کا سہرا قائد تحریک علامہ سید ساجد علی نقوی کے سر پر سجتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت نے اپنی انتخابی مہم میں گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے تعین کو پورے انتخابی مہم میں روح کی حیثیت دی، لیکن نامعلوم وجوہات کے سبب اپنے نعرے کو بھول چکی ہے، جس سے پورے خطہ میں مایوسی کی لہر پیدا ہوگئی ہے، جو خطہ کیلئے نیک شگون نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی تحریک پاکستان نے ماضی کی طرح خطہ کی ترجمانی کرتے ہوئے یہ بیڑا اٹھایا ہے اور اس حوالے سے آج مقامی ہوٹل میں جمعیت علماء اسلام کے ساتھ مشاورتی نشست رکھی گئی، جس میں صوبائی امیر مولانا عطاء اللہ شہاب نے آئی ٹی پی کا شکریہ ادا کیا اور بھرپور تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کا تعین اہم موڑ پر پہنچ چکا ہے، ایسے میں تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کا متفق ہونا وقت کی ضرورت ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جب بھی یہاں قومی ہم آہنگی کا ماحول پیدا ہوتا ہے، مسلکی تناﺅ پیدا کیا جاتا ہے، جو افسوسناک ہے۔ اجلاس میں آئینی حقوق کیلئے مشترکہ جدوجہد کے ساتھ دیگر معاشرتی، علاقائی اور بین المسالک ہم آہنگی کو فروغ دینے کیلئے مشترکہ لائحہ عمل پر بھی اتفاق کیا گیا۔
خبر کا کوڈ : 938224
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش