0
Friday 18 Jun 2021 01:24

خشک سالی قدرتی امر، تحفظ کے لئے منصوبہ بندی ضروری ہے، علامہ ساجد نقوی

خشک سالی قدرتی امر، تحفظ کے لئے منصوبہ بندی ضروری ہے، علامہ ساجد نقوی
اسلام ٹائمز۔ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں خشک سالی قدرتی امر ہے، البتہ اثرات سے تحفظ کے لئے منصوبہ بندی ضروری ہے، خشک سالی سے تحفظ اور لائحہ عمل کے بارے میں قرآن پاک کے سورئہ یوسف سے استفادہ کی ضرورت ہے کہ کیسے اہل مصر کو حضرت یوسفؑ نے حکمت و تدبر اور بہترین حکمت عملی سے ایک عرصہ خشک سالی سے محفوظ رکھا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یوم صحرا، و خشک سالی (قحط) بارے عالمی آگہی پر اپنے پیغام میں کیا۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ خشک سالی (قحط) دیگر قدرتی عوامل کی طرح ایک قدرتی امر ہے، جس سے مفر نہیں البتہ اس کے اثرات سے تحفظ کے لئے دنیا کو جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے کیونکہ خوراک کی عدم دستیابی یا غیر مساویانہ تقسیم جیسے بڑے مسئلے سے پہلے ہی دنیا میں جہاں ناہمواریاں ہیں وہیں اس سے کئی دیگر مسائل بھی جڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قحط سے تحفظ سے متعلق قرآن پاک کا سورة یوسف آیت (46 تا 49) اسی جانب متوجہ کرتا ہے جب کہ بادشاہ مصر نے ایک خواب (سات دبلی، سات موٹی گائیں، سات سبز و سات خشک خوشے) دیکھا اور تعبیر کے علم کے ذریعے حضرت یوسفؑ نے خشک سالی بارے آگاہ کرتے ہوئے حکمت و تدبر سے بھرپور لائحہ عمل دیا اور انسانی فلاح و بہبود کے لئے حکومت کی رہنمائی کی۔ ان تعلیمات سے استفادہ کی ضرورت ہے کہ کس طرح موجودہ دور میں خشک سالی سے محفوظ رہا جاسکتا ہے اور کلائی میٹ چینج (موسمیاتی تغیر و تبدل) کے اثرات کے باعث دنیا کو جو ایک بڑا مسئلہ درپیش ہے کیسے نمٹا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کلامیٹ چینج کے اثرات میں صحرائی خطوں میں پانی، زراعت سمیت دیگر شعبوں میں مزید عملی اقدامات پر بھی زور دیا۔
خبر کا کوڈ : 938624
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش