0
Saturday 19 Jun 2021 16:37

نیب اور عدالتی اصلاحات پر ایوان میں آ کر بات کیوں نہیں کرتے؟ شہریار آفریدی

نیب اور عدالتی اصلاحات پر ایوان میں آ کر بات کیوں نہیں کرتے؟ شہریار آفریدی
اسلام ٹائمز۔ شہریار آفریدی کا کہنا ہے کہ آپ نیب اور عدالتی اصلاحات پر بات کرنا چاہتے ہیں، تو ایوان میں آ کر بات کیوں نہیں کرتے؟ پی ٹی آئی رہنماء شہریار آفریدی نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کووڈ فیز تھری میں پوری قوم جکڑی ہوئی ہے۔ کوئی سلیکٹڈ، کوئی نااہل، کوئی کہتا ہے ہمیں کچھ بھی علم نہیں ہے اس طرح کے طعنے دیئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افسوس ماضی میں قبائلی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، ظلم کی انتہاء کی گئی مگر کوئی آواز نہیں اٹھی۔ پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے دور میں ڈرون اٹیک ہوتے رہے۔ پاکستان کے اڈے سابق ادوار میں دیئے گئے۔ 2008ء سے 2013ء تک 361 ڈرون اٹیک ہوئے۔ 2014ء سے 2018ء تک نون لیگ کے دور میں 61 ڈرون اٹیک ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ناموس رسالتؐ کے حوالے سے کسی کی زبان نہ بولی۔ عمران خان نے پوری دنیا کے سامنے ناموس رسالت، اسلامو فوبیا اور مسئلہ فلسطین کو اٹھایا۔ محمود عباس نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کی تقریر سننا چاہونگا۔ وزیراعظم کی تقریر کی تعریف محمود عباس نے کی، اس کی مثال نہیں ملتی۔

شہریار آفریدی نے کہا کہ اسی اسلام آباد میں 33 ہزار کینال زمین ملک ریاض سے واگزار کرائی گئی۔ جاتی امراء جائیں؟ یہ جائیدادیں غرباء کی زمینوں پر قائم کی گئیں، جن کے خلاف عمران خان کھڑا ہے۔ میرا ان سیاسی جماعتوں سے سوال ہے کہ یہ عدالتوں سے کیوں بھاگتے ہیں؟ آج وہ کیوں باہر بیٹھے ہیں؟ پی ٹی آئی رہنماء کا کہنا تھا کہ فیٹف کے حوالے سے کیوں سابق وزیراعظم غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کررہا ہے۔ شاہد خاقان عباسی اس ملک کا وزیراعظم تھا مگر اس کے ساتھ امریکہ میں کیا سلوک ہوا؟ حریت کانفرنس کے لوگ کہتے ہیں کہ کشمیر کے سودے کی بات نہ کریں کیونکہ ان کی ہمت ختم ہوتی ہے۔ آپ نے اجمل قصاب کے حوالے سے کیا کیا؟ سب جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احسن اقبال نے اپنے دور میں سی پیک کے مغربی روٹ پر کام رکوایا۔ آج ریاست مدرسوں کے بچوں کو مین اسٹریم میں لانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔ دس چھوٹے اور بڑے ڈیموں پر کام کیا جا رہا ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ختم ہو چکا ہے۔ اسٹاک ایکسچینج تاریخی بلند ترین سطح پر ہے، جی ڈی پی مثبت سمت میں جارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کلبھوشن پر ایک ایف آئی آر تک نہیں درج کرا سکے۔ ساڑھی اور مینگو ڈپلومیسی کی آڑ میں آپ کے خاندان نے بھارت میں اپنے کاروبار کو فروغ دیا۔ ریاستی اداروں پر الزامات لگانا کون سی حب الوطنی ہے۔ ہم نے نہیں انہوں نے خود ایک دوسرے پر کیسز کرائے تھے۔ شہریار آفریدی نے کہا کہ آپ نیب اور عدالتی اصلاحات پر بات کرنا چاہتے ہیں، تو ایوان میں آ کر بات کیوں نہیں کرتے؟ یہ ایوان ہم سے مطالبہ کرتا ہے اس ملک سے سودی نظام ختم کر دیں۔ اپنے لیڈرز سے کہیں پاکستان واپس آ کر عدالتوں میں اپنے کیسز کا سامنا کریں۔ جنہوں نے ملک لوٹا ان کی نشاندہی کر کے سامنے لائیں گے۔ پاکستان عالمی دنیا کیلئے مثال بننے جا رہا ہے، آئیں مل کر پاکستان کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔
 
خبر کا کوڈ : 938912
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش