0
Saturday 19 Jun 2021 22:40

گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کا فیصلہ ملکی قیادت کا ہے، عملدرآمد ضرور ہوگا، اسد عمر

گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کا فیصلہ ملکی قیادت کا ہے، عملدرآمد ضرور ہوگا، اسد عمر
اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر ترقیات و منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کا فیصلہ ملکی قیادت کا ہے جس پر ہر صورت عمل ہوگا۔ وزیر اعظم کے حکم پر جی بی کے عوام کو بنیادی حق دیا جا رہا ہے۔ گلگت میں وزیر اعلیٰ خالد خورشید کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کا فیصلہ صرف تحریک انصاف کا نہیں بلکہ یہ فیصلہ ملکی قیادت کا ہے۔ عبوری صوبہ بنانے میں تاخیر ضرور ہوئی ہے لیکن اس معاملے پر بھارت کیساتھ کوئی بیک ڈور ڈپلومیسی نہیں چل رہی۔ جس طرح ترقیاتی پیکج کے اعلان پر عمل کر کے دکھایا اسی طرح عبوری صوبہ کے اعلان پر بھی عمل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام میں گلگت بلتستان کے 135 ارب لاگت کے منصوبے شامل کئے گئے ہیں۔ پی ایس ڈی پی کے منظور شدہ منصوبوں کے لئے رواں سال 40 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگلے مالی سال میں ریجنل گرڈ کے لئے ڈیڑھ ارب روپے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ تھری جی اور فور جی کی نیلامی اگلے دو ماہ میں ہوگی اور غذر شندور روڈ کو سی پیک میں شامل کیا گیا ہے جس پر 50 ارب روپے خرچ ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی عوام کو ٹیلی مواصلات کی جدید سہولیات کی فراہمی کے لئے یونیورسل سروس فنڈ اور اگنائٹ کو بھی جی بی تک توسیع دی گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ گلگت بلتستان ایک اہم خطہ ہے، یہاں پر خصوصی توجہ دیکر پورے ملک کا ریونیو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے دیگر صوبوں کی نسبت گلگت بلتستان میں کرونا ویکسی نیشن پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ وفاقی حکومت گلگت بلتستان میں ویکسی نیشن کا عمل تیز کرنے کے لیے چھ بڑے ویکسی نیشن سینٹرز قائم کر رہی ہے تاکہ علاقے میں سیاحت میں کوئی خلل پیدا نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان کو 30 موبائل یونٹس فراہم کر رہی ہے جس میں ایمبولینس کے ساتھ ساتھ میڈیکل عملہ بھی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں پھلوں کی ویلیو ایڈیشن بڑھانے کے منصوبے رکھے گئے ہیں تاکہ کسانوں کو ملکی اور بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی مل سکے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی خالد خورشید نے کہا کہ گلگت بلتستان کا بجٹ حکومت کی مرضی سے خرچ ہوگا، کسی صوبے میں اپوزیشن ممبران کو بجٹ نہیں دیا جاتا ہے۔ صوبائی حکومت نے اپوزیشن کو جتنا بجٹ دیا ہے ماضی میں کسی بھی حکومت نے نہیں دیا ہے۔ اس اپوزیشن کو حکومت کیا بجٹ دے جن کے دور اقتدار میں عوام پانی، بجلی اور تعلیم جیسے بنیادی سہولیات سے محروم رہے ہیں۔ ہم نے اپوزیشن کو بجٹ کا شئر دیا تھا جو کہ سابقہ ادوار سے زیادہ تھا۔ اس کے باﺅجود عدالت چلے گئے ہیں، اس لئے ہم یہ کہتے ہیں کہ اس دفعہ ممبر اسمبلی کے لئے بجٹ ہی نہیں رکھتے ہیں، تمام بجٹ حکومت خرچ کرے گی اور مینڈیٹ بھی ان کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں حکومتوں نے ہوائی اعلانات کئے، عملی طور پر کسی بھی حکومت نے بجٹ فراہم نہیں کیا، پہلی بار تحریک انصاف کی حکومت نے تاریخ ساز ترقیاتی پروگرام دیا اور منصوبوں کو متعلقہ فورمز سے منظوری کے بعد ہم نے اعلانات کئے ہیں ان منظور شدہ منصوبوں کے جلد ٹینڈرز کرائے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعلی وفاقی منصوبوں کے حوالے سے عوام میں غلط فہمیاں پیدا کر رہا ہے حالانکہ تمام وفاقی منصوبے پی ایس ڈی پی کی کتاب میں شائع ہو چکے ہیں اور باقاعدہ ان پر کام شروع ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے دور اقتدار میں پرنسپل اکاﺅنٹنگ آفیسر کا عہدہ گلگت بلتستان میں منتقل کیوں نہیں ہوا اور کتنے میگا منصوبوں کے ٹینڈر گلگت میں ہوئے۔ ہینزل پاور پراجیکٹ جب چار سال قبل منظور ہوا تھا تو اس پر ٹینڈر کیوں نہیں کرایا گیا اور گلگت سکردو شاہراہ کا بجٹ جاری کیوں نہیں کیا گیا، اب تک اس منصوبے کے لئے دس ارب روپے تحریک انصاف کی حکومت نے جاری کئے ہیں اور اس منصوبے کو پائہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے بقیہ رقم بھی فراہم کریں گے۔ وزیر اعلی نے کہا کہ سابق وزیر اعلی حافظ حفظ الرحمان نے گندم سبسڈی ختم کرنے کے لئے وفاق کو باقاعدہ خط لکھا تھا۔

تحریک انصاف کی حکومت نے حفیظ الرحمان کے خط کو مسترد کر کے نہ صرف گندم سبسڈی برقرار رکھی ہے بلکہ سبسڈی میں دو ارب روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میگا ترقیاتی پیکیج کے تحت جی بی میں جاری پی ایس ڈی پی کے منصوبوں کے لئے بھی رقم رکھی گئی ہے تاکہ ان منصوبوں کو بروقت مکمل کر کے عوام کو ان کے ثمرات پہنچا سکیں۔ وزیر اعلی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کے لئے پی ایس ڈی پی کے منصوبوں کے لئے ایلوکیشن دو ارب سے بڑھا کر دس ارب کر دیئے۔ وزیر اعلی خالد خورشید نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ عبوری آئینی صوبے کے حوالے سے جولائی میں اسلام آباد میں میٹنگ ہوگی گلگت بلتستان میں تمام اسٹیک ہولڈرز، تمام اپوزیشن جماعتیں، تمام دینی جماعتیں، بار کونسل اور صحافیوں سے مشاورت کے بعدمکمل ڈرافٹ بنے گا۔ وہ ڈرافٹ وفاق میں جمع کر وایا جائے گا۔
خبر کا کوڈ : 938965
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش