0
Friday 25 Jun 2021 23:28

مزاحمتی محاذ سے متعلق ویبسائٹوں کی بندش نے "امریکی جمہوریت" کی قلعی کھول دی ہے، سید حسن نصراللہ

مزاحمتی محاذ سے متعلق ویبسائٹوں کی بندش نے "امریکی جمہوریت" کی قلعی کھول دی ہے، سید حسن نصراللہ
اسلام ٹائمز۔ لبنانی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے آج سہ پہر ٹیلیویژن پر اپنے خطاب میں لبنان سمیت پورے خطے کی تازہ ترین صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے تاکید کی ہے کہ امریکہ لبنان میں نئے فتنے پھیلانا چاہتا ہے۔ سید حسن نصراللہ نے اپنے خطاب کے آغاز میں زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جانب سے مسدود کی جانے والی ویب سائٹوں اور ٹیلیویژن چینلز نے نہ صرف فلسطین کے ساتھ عالمی یکجہتی کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا ہے بلکہ امریکی سامراجیت، آئے دن کے فتنوں اور تکفیریوں کے مقابلے میں بھی اہم موقف اختیار کیا ہے۔ سید مقاومت نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ویب سائٹوں پر پابندی عائد کرنے کے اس امریکی فیصلے نے، جمہوریت و آزادیٔ عقیدہ سے متعلق امریکہ کے تمام جھوٹے دعووں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے، اس امریکی اقدام کو "مزاحمتی میڈیا کے خلاف امریکی میڈیا جارحیت" قرار دیا اور امریکہ کی جانب سے لبنانی فوج کی حمایت کے اعلان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ لبنانی فوج کی مدد سے متعلق امریکی دعوے کا مقصد، حزب اللہ لبنان کے ساتھ مقابلہ اور ملک میں وسیع فتنہ انگیزی ہے۔ سربراہ حزب اللہ نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ لبنانی فوج ملکی امن و امان، استحکام و جغرافیائی سالمیت کی ضامن ہے، کہا کہ تاہم یہ امریکہ ہی ہے جو کسی بھی میدان میں لبنانی فوج کی حقیقی پیشرفت میں رکاوٹ ہے اور خطے کے ممالک کی جانب سے اسے کسی قسم کا عملی تعاون پہنچنے نہیں دیتا۔

سید حسن نصراللہ نے اپنے خطاب کے دوران خطے و بین الاقوامی سطح پر جاری ایرانی مذاکرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران ویانا مذاکرات کے دوران جوہری مسائل سے ہٹ کر کسی بھی دوسرے مسئلے پر گفتگو کا مخالف ہے اور اپنے بیلسٹک میزائلوں یا خطے کے دوسرے مسائل پر بات چیت نہیں چاہتا۔ حزب اللہ کے سربراہ نے ایران و سعودی عرب کے درمیان انجام پانے والے مذاکرات کے بارے کہا کہ ایران و سعودی عرب کے درمیان ہونے والے تمام مذاکرات میں صرف دوطرفہ تعلقات ہی زیربحث رہے ہیں اور کبھی لبنان کے بارے گفتگو نہیں ہوئی کیونکہ ایران کسی کی جانب سے مذاکرات نہیں کرتا، نہ لبنانیوں، نہ شامیوں، نہ فلسطینیوں، نہ یمنیوں اور حتی نہ ہی افغانیوں کی جانب سے.. تاہم اگر ایران سے مدد کی باضابطہ درخواست کی جائے تو وہ ایک مخلص دوست کے مانند ہمیشہ مدد کرتا ہے۔ انہوں نے ملکی اندرونی بحرانوں، خصوصا تیل کے بحران کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر لبنانی حکومت ملکی ضرورت کے پٹرول و ڈیزل کو مہیا نہ کر پائی تو ہم ایران کی جانب جائیں گے.. تاہم بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ (ایران سے پٹرول و ڈیزل کی خریداری کے ذریعے) سید (حسن نصراللہ) لبنان پر پابندیاں لگوانا چاہتے ہیں! سید مقاومت نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ جب تک یہ کام حکومت یا اسٹیٹ بینک کے ذریعے انجام نہ پائے اس پر پابندی عائد نہیں کی جا سکتی، کہا کہ اگر کوئی اپنے دوستانہ تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے لبنان کی مشکل کم کر سکتا ہو تو اسے چاہئے کہ وہ ایسا کام ضرور کرے.. جبکہ قبل ازیں ہم لبنان کے قومی مفاد کے حصول کے لئے امریکہ، سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے ساتھ بعض افراد کی دوستیاں بھی استعمال کر چکے ہیں۔

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ حزب اللہ نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ ایک روز لبنان اپنی ملکی ضرورت کے پٹرول و ڈیزل کے لئے بھی سرگرداں ہو گا، لبنانی مدد کے امریکی و سعودی دعووں کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ امریکہ نے چند سال قبل ہی اعلان کیا تھا کہ وہ لبنان کو 10 ملین ڈالر دے گا تو کیا کسی کی جانب سے ان 10 ملین ڈالرز میں سے کچھ لبنانی عوام پر بھی خرچ کیا گیا ہے؟ بہرحال.. سعودی عرب بھی تو قبل ازیں اعلان کر چکا ہے کہ اس نے لبنان پر ملین ہا ڈالر خرچ کئے ہیں.. آپ ہی بتائیں کہ یہ کئی ملین ڈالر بالآخر گئے کہاں؟ سید حسن نصراللہ نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ آج بعض لوگ اپنی خوراک کے حصول کے لئے کوڑا چھانٹنے پر مجبور جبکہ بعض دوسرے بیکار بیٹھے صرف اور صرف رفاہی کاموں میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں، کہا کہ موجودہ صورتحال میں ملک "سبسڈی کے خاتمے" کی جانب بڑھے گا کیونکہ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ اس کا خزانہ اب خالی ہو چکا ہے جبکہ اس بحران میں ہر فریق اپنی ذمہ داری کو دوسروں کی گردن پر لادنے کی کوشش میں ہے.. سید مقاومت نے ایسی صورتحال میں عراق کی جانب سے لبنان کی مدد کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور فلسطینی مزاحمتی محاذ میں عملی شرکت کے عراقی کتائب حزب اللہ کے فیصلے کو سراہتے ہوئے تاکید کی کہ ہم ان سب فریقوں کے تہہ دل سے مشکور ہیں جو لبنان کا استحکام چاہتے ہیں جبکہ لبنان کا محاصرہ اور اس پر پابندیاں عائد کرنے والوں، جن میں شیطان بزرگ امریکہ سرفہرست ہے، کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 940060
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش