0
Friday 16 Jul 2021 09:40

اسلام دین فطرت ہے اور تعلیم کے لئے فطری طریقہ تدریس اختیار کرتا ہے، طاہر خورشید

اسلام دین فطرت ہے اور تعلیم کے لئے فطری طریقہ تدریس اختیار کرتا ہے، طاہر خورشید
اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے سیکرٹری تعلیم طاہر خورشید نے کہا ہے کہ پرائمری نصاب کو انگریزی میں کر دیا گیا، قومی زبان کی بجائے ایک غیرملکی زبان کو رواج دیا جا رہا ہے جب کہ کسی بھی قوم کی علمی، عملی ترقی کا دارو مدار قومی تدریسی زبان پر ہے۔ تدریسی زبان جتنی فطری اور قابل فہم ہوگی اتنا طالب علم مضمون کو سمجھے گا، زبان قابل فہم نہ ہو تو کوئی اصول و نظریہ کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو طالب علم اس کی گہرائی میں نہیں اتر سکے گا۔ قوم کو ذہنی غلام بنانے پر مجبور کیا جا رہا ہے، ہمیں آگے بڑھنے کے لئے دیگر ممالک کی طرح اپنی قومی زبان کو تعلیم اور سرکاری امور کی انجام دہی کے لئے اختیار کرنا ہوگا۔ دریں اثنا انہوں نے کہا کہ یکساں قومی نصاب اور کتب میں شامل مواد کے حوالہ سے  حکومت کی جانب سے سرکاری، پرایویٹ اور PEF  اساتزہ کی تربیت کا عمل شروع ہو  چکا ہے۔ محض مظفرگڑ ھ میں تقریبا 16000 ٹیچرز کے لئے آن لائین پیشہ ورانہ تربیت کا عمل جاری ہے۔ مگر یہ سب پیسہ اور اساتذہ کا وقت ضائع کرنے اور ریت پر گھی ڈالنے کے مترادف ہے۔ اساتذہ کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ جو تربیت حاصل کرتے ہیں ان طریقوں کو آسان زبان میں سمجھ جائیں۔ اور پھر اسے نہایت آسان زبان میں بچوں کی طرف منتقل کیا جائے۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ حقیقی مقصد تربیت ثانوی حیثیت اختیار کر چکا ہے، آخر تربیت و تعلیم کے لیے انگریزی زبان کا تعلق کیا ہے؟۔ اس سے  غریب دیہات کے عوام کا استحصال ہوگا۔ اقوام عالم بچوں کو پڑھا رہے ہیں اور ہم ایک غیرملکی زبان کو پڑھا رہے ہیں، اس فیصلہ نے استاد اور والدین کو پریشان کر دیا ہے۔ انگریزی کا بوجھ ذہن پر ڈال دیا گیا۔ لہذا حکمران طبقہ سے گزارش ہے کہ وہ تعلیمی نظام کو انگریزی اور انگریز کے اداروں  کے تسلط سے آزاد کرائیں۔
 
خبر کا کوڈ : 943656
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش