0
Tuesday 20 Jul 2021 23:09

فلسطینی مزاحمتی محاذ کیجانب سے صیہونی رژیم کو آخری مہلت

فلسطینی مزاحمتی محاذ کیجانب سے صیہونی رژیم کو آخری مہلت
اسلام ٹائمز۔ بعض عرب ممالک کے ساتھ ساتھ محمود عباس کی فلسطینی حکومت کی جانب سے بھی غاصب صیہونی رژیم کے ساتھ وسیع انتظامی ہم آہنگی کے سبب غزہ کی مستحق عوام کو قطری امداد اور فلسطینی عبوری حکومت کی سماجی امور کی رقوم کی ادائیگی میں ناکامی کے باعث سخت ترین صیہونی محاصرے میں گھری غزہ کی پٹی میں آنے والی عید الاضحٰی امسال بدترین اقتصادی بحران کی حالت میں منائی جا رہی ہے۔ عرب روزنامے الاخبار میں "رجب المدہون" نامی معروف عرب لکھاری کے قلم سے تحریر کئے جانے والے ایک مقالے میں اس صورتحال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فلسطینی مزاحمتی محاذ کی جانب سے غاصب صیہونی رژیم کو ارسال کئے جانے والے سخت پیغام سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔

رجب المدہون نے "قابض رژیم اور عبوری حکومت کی ملی بھگت؛ عید پر غزہ کے رہائشیوں کو کوئی رقم ادا نہیں کی جائے گی" کے عنوان سے چھپنے والے اپنے مقالے میں لکھا ہے کہ فلسطینی مزاحمتی محاذ نے ثالثوں کی مدد سے ارسال کئے گئے اپنے پیغام میں خصوصا قدس اور غزہ کے حوالے سے مقرر کردہ اپنی ریڈ لائنون کی خلاف ورزی پر اسرائیلی رژیم کو سختی کے ساتھ خبردار کیا ہے۔ اس مقالے کے مطابق فلسطینی مزاحمتی محاذ نے غزہ کے مستحق خاندانوں تک قطری امداد کے پہنچائے جانے اور عبوری حکومت کی جانب سے اجتماعی امور سے متعلق رقوم کی ادائیگی میں ناکامی کے اعلان پر یہ غاصب صیہونی رژیم کو آخری وارننگ جاری کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق غاصب صیہونی حکام گذشتہ 2 ماہ سے غزہ کے 1 لاکھ گھرانوں کے لئے بھیجی جانے والی قطری امداد کے رستے میں صرف اس بہانے سے رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں کہ ان کے خیال میں ارسال کی جانے والی امداد حماس تک پہنچ جائے گی۔

اس مقالے میں لکھا گیا ہے کہ باوجود اس کے کہ کچھ عرصے سے اس امداد کی ترسیل میں پیشرفت دیکھی جا رہی تھی، گذشتہ ہفتے ہی اسرائیل کی جانب سے یہ شرط بھی عائد کر دی گئی کہ فلسطینی شہریوں کو دی جانے والی ان امدادی رقوم کو اقوام متحدہ کے غذائی پروگرام کے تحت "گھریلو سازوسامان کی خریداری کے مالیاتی کارڈوں" (Grocery Shopping Cards) میں بدل دیا جائے جس کے بعد اس حوالے سے کی جانے والی تمام کوششیں ناکام ہو کر رہ گئی ہیں کیونکہ غاصب صیہونی رژیم کی اس بے جا شرط کے جواب میں حماس کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ فلسطینی خاندانوں کو رقوم ہی ملنا چاہئیں تاکہ وہ اپنی مختلف غذائی ضروریات کے ساتھ ساتھ دواؤں، گھریلو کرایوں، سکولوں کی فیسوں اور اسی جیسے دوسرے اخراجات سے متعلق اپنی ضروریات کو بھی پورا کر سکیں۔ عرب مصنف کے مطابق فلسطینیوں کو قطری امداد کی ترسیل میں روڑے اٹکائے جانے کا یہ عمل صرف غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے ہی روا نہیں رکھا گیا بلکہ خود فلسطین کی عبوری حکومت بھی اپنے بینکوں کے ذریعے اس امداد کی ترسیل سے گریز کر رہی ہے جس پر برہمی کے باعث فلسطین میں قطری سفیر محمد العمادی گذشتہ روز ہی وطن واپس لوٹ گئے تھے جبکہ ان کا کہنا تھا کہ اب اس حوالے سے عید کے بعد ہی مذاکرات کا اگلا دور شروع کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ حالیہ تحقیق کے مطابق سخت ترین صیہونی محاصرے میں گھری غزہ کی پٹی میں 1 لاکھ 15 ہزار مستحق خاندان موجود ہیں جو عبوری حکومت کی جانب سے ہر 3 ماہ میں ملنے والی 200 تا 400 ڈالر کی امدادی رقوم میں تاخیر سے رنج اٹھا رہے ہیں جبکہ رام اللہ کے متعلقہ وزارتخانے کی جانب سے موجودہ مالی بحران، یورپی یونین کے عدم تعاون اور اسرائیلی اقدامات سمیت مختلف حیلوں بہانوں سے ان امدادی رقوم کو سالیانہ 4 مرتبہ سے کم کر کے 3 مرتبہ کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ فلسطینی حکومت کی جانب سے عید الاضحٰی سے قبل، قطری امداد کے علاوہ ان رقوم کے بھی ادا نہ کئے جانے کا اعلان کر دیا گیا تھا جس کے باعث فلسطینی بازار میں اس وقت شدید مندی کا رجحان ہے۔
خبر کا کوڈ : 944415
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش