0
Sunday 25 Jul 2021 17:15

متحدہ عرب امارات، شہزادوں میں طاقت کی جنگ شدت اختیار کر گئی

متحدہ عرب امارات، شہزادوں میں طاقت کی جنگ شدت اختیار کر گئی
اسلام ٹائمز۔ معروف ویب سائٹ امارات لیکس کے مطابق متحدہ عرب امارات کے ایک اہم باخبر ذریعے نے شہزادوں کے درمیان طاقت کی جنگ شدت اختیار کر جانے کی اطلاع دی ہے۔ اس باخبر ذریعے نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کے موجودہ حکمران محمد بن زاید اور ان کے بھائی طحنون بن زاید کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں جس کے بعد انہوں نے اپنی سکیورٹی ٹیم تبدیل کر دی ہے۔ ان کی نئی سکیورٹی ٹیم فرانس کی سکیورٹی کمپنی secopex نے فراہم کی ہے۔ موصولہ رپورٹ کے مطابق یہ نئی سکیورٹی ٹیم متحدہ عرب امارات کے حکمران محمد بن زاید کے ساتھ رہے گی اور ان کے تمام اندرون ملک اور بیرون ملک دوروں میں بھی ان کی ہمراہی کرے گی۔ یاد رہے کہ طحنون بن زاید کے پاس قومی سلامتی کے مشیر کا عہدہ ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ان کے اس اقدام کا مقصد اپنے بھائی طحنون بن زاید سے وابستہ گارڈز سے دوری اختیار کرنا ہے۔
 
فرانس کی سکیورٹی کمپنی سیکوپیکس ایک بڑی بین الاقوامی کمپنی ہے جس کے تربیت یافتہ افراد اہم بین الاقوامی شخصیات کی حفاظت پر مامور کئے جاتے ہیں۔ اسی طرح یہ کمپنی ایک بڑی فوج کی بھی مالک ہے جس میں شامل افراد لیبیا، عراق کے علاقے کردستان، صومالیہ اور افریقہ کی جنگوں میں بھی شامل رہے ہیں۔ اس کمپنی کا بانی فرانس کے انٹیلی جنس ادارے کا سابق سربراہ پیر مرزالی ہے۔ یہ شخص اصل میں یہودی ہے اور اس پر عراق میں ٹارگٹ کلنگز سمیت کئی مجرمانہ اقدامات میں ملوث ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ سیکوپیکس کمپنی کا شکار دنیا کی خطرناک ترین سکیورٹی کمپنیوں میں ہوتا ہے۔ اس کمپنی کے پاس جنگی ہیلی کاپٹرز، میزائل اور دیگر فوجی سازوسامان سمیت جدید ترین اسلحہ موجود ہے جبکہ جاسوسی آلات سے بھی لیس ہے۔ اسی طرح کمپنی میں شامل فورسز کو جدید ترین فوجی ٹریننگ مہیا کی جاتی ہے جس میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بھی شامل ہے۔
 
دوسری طرف بعض ایسی رپورٹس بھی موصول ہوئی ہیں جن سے متحدہ عرب امارات کے قومی سلامتی کے مشیر طحنون بن زاید اور فرمانروا محمد بن زاید کے بیٹے خالد بن محمد بن زاید کے درمیان بھی طاقت کی رساکشی ظاہر ہوتی ہے۔ طاقت کی اس رساکشی نے حکمران خاندان کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے۔ موصولہ رپورٹس کے مطابق خالد بن محمد بن زاید اور ان کے چچا طحنون بن زاید کے درمیان طاقت کی اس جنگ کے نتیجے میں زاید خاندان بکھرتا جا رہا ہے جبکہ یہ خاندان دو حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ یاد رہے خالد بن محمد بن زاید متحدہ عرب امارات کے حساس اداروں کے سربراہ ہیں۔ طاقت کی اس جنگ کی بنیادی وجہ متحدہ عرب امارات کے فرمانروا خلیفہ بن زاید کی علالت ہے جو نامعلوم وجوہات کی بنا پر طوالت اختیار کر گئی ہے۔
خبر کا کوڈ : 945047
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش