0
Tuesday 27 Jul 2021 20:50

امریکہ سے اسٹریٹجک معاہدہ، مختلف عراقی گروہوں کا ردعمل

امریکہ سے اسٹریٹجک معاہدہ، مختلف عراقی گروہوں کا ردعمل
اسلام ٹائمز۔ پیر 26 جولائی 2021ء کے روز واشنگٹن میں امریکی صدر جو بائیڈن اور عراقی وزیراعظم مصطفی الکاظمی نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس منعقد کی جس میں اعلان کیا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک معاہدہ طے پا گیا ہے جس کی رو سے امریکہ اس سال کے آخر تک عراق سے مکمل طور پر فوجی انخلاء انجام دے دے گا۔ دوسری طرف عراق کے مختلف سیاسی دھڑوں اور حلقوں کی جانب سے امریکی حکومت کے اس اعلان پر مختلف قسم کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ اسلامی مزاحمت کی تنظیم "النجباء" کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نصر الشمری نے اس بارے میں کہا: "ہمیں امریکی حکمرانوں پر کوئی اعتماد نہیں ہے۔ ہم ملک میں ہر سطح اور نوعیت کی امریکی فوجی موجودگی کے مخالف ہیں۔ امریکہ کو مکمل طور پر عراق سے نکلنا ہو گا۔" انہوں نے مزید کہا: "وہ عناصر جو ملک میں امریکی موجودگی پر زور دے رہے ہیں درحقیقت بیرونی حمایت کے ذریعے اپنا قد بڑھانے کے خواہاں ہیں۔"
 
نصر الشمری نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ عراق کی فضائی حدود امریکہ کے زیر کنٹرول ہیں، کہا: "عراق میں امریکہ کے مجرمانہ اقدامات، خاص طور پر اسلامی مزاحمت کے دو عظیم کمانڈرز یعنی شہید قاسم سلیمانی اور شہید ابو مہدی المہندس کی ٹارگٹ کلنگ، امریکی فضائیہ کی وساطت سے انجام پائے ہیں۔" انہوں نے کہا کہ عراق میں اس قسم کے مجرمانہ اقدامات امریکہ اور اسرائیل کے باہمی تعاون سے جاری ہیں اور یہ دونوں ہمارے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یاد رہے حال ہی میں واشنگٹن میں عراقی وزیراعظم مصطفی الکاظمی اور امریکی صدر جو بائیڈن نے اہم امور سے متعلق دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک معاہدہ طے پا جانے کا اعلان کیا ہے۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں دونوں رہنماوں نے کہا: "معاہدے کی رو سے یہ طے پایا ہے کہ عراق میں امریکی فوجیوں کی سرگرمیاں ٹریننگ، مشاورت، امداد اور انٹیلی جنس شعبوں تک محدود رہیں گی۔"
 
دوسری طرف عراق کے سیاسی اتحاد "فتح" نے ملک سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کا خیر مقدم کرتے ہوئے اعلان کیا: "عراق کی سرزمین سے امریکی فوجیوں کا انخلاء ایک مثبت قدم ہے۔ ہم اس سال کے آخر تک عراق سے امریکہ کے فوجی انخلاء کا خیر مقدم کرتے ہیں۔" ہادی العامری کی سربراہی میں فتح اتحاد نے اس بارے میں جاری کردہ اپنے بیانیے میں مزید کہا: "عراق سے امریکی فوجیوں کا انخلاء عراق کی خودمختاری اور حق خود ارادیت کا ضامن ہے۔ ہمیں امید ہے کہ عراقی حکمران امریکہ سے انجام پانے والے معاہدے پر عملدرآمد کروائیں گے۔" عراقی وزیراعظم مصطفی الکاظمی ایک اعلی سطحی حکومتی وفد کے ہمراہ امریکہ کے دورے پر تھے۔ اس دورے کا مقصد عراق سے امریکہ کے فوجی انخلاء سمیت اہم امور کے بارے میں اسٹریٹجک مذاکرات انجام دینا تھا۔ حال ہی میں اعلان کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک میں اسٹریٹجک معاہدہ طے پا گیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 945436
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش