0
Thursday 29 Jul 2021 17:02

اسلامی مزاحمت کا غاصب صہیونی رژیم کو نیا الٹی میٹم

اسلامی مزاحمت کا غاصب صہیونی رژیم کو نیا الٹی میٹم
اسلام ٹائمز۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق مقبوضہ فلسطین میں مجاہدین مسلسل گذشتہ کئی روز سے آگ لگانے والے پتنگ یہودی بستیوں کی جانب بھیج رہے ہیں۔ یہ اقدام اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم پر جنگ بندی میں اسلامی مزاحمت کی جانب سے پیش کئے گئے مطالبات قبول کرنے کیلئے دباو ڈالنے کی غرض سے انجام پا رہا ہے۔ یاد رہے سیف القدس معرکے کے بعد مصر کی وساطت سے اسلامی مزاحمت اور صہیونی رژیم کے درمیان جنگ بندی برقرار ہو گئی تھی۔ مصر نے وعدہ کیا تھا کہ عید سعید قربان تک صہیونی رژیم کو اسلامی مزاحمت کی جانب سے پیش کردہ مطالبات پورے کرنے کی مہلت دی جائے۔ ان مطالبات میں قیدیوں کا تبادلہ بھی شامل تھا۔ لبنان کے روزنامے الاخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اسلامی مزاحمت کی تنظیم حماس نے حال ہی میں مصری حکام کو خبردار کیا ہے کہ وہ موجودہ صورتحال سے راضی نہیں ہے۔
 
اسی طرح حماس نے مصری حکام کی وساطت سے اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کو خبردار بھی کیا ہے کہ وہ اسلامی مزاحمت کے خلاف اقدامات سے باز رہے۔ حماس نے صہیونی حکام کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اقتصادی امور کو انسانی امور اور قیدیوں کے تبادلے کے مسئلے سے نتھی نہ کرے۔ اس پیغام میں خبردار کیا گیا ہے کہ مقبوضہ فلسطین کی صورتحال ایک بار پھر کشیدگی کی جانب گامزن ہے جس کا نتیجہ دوبارہ جنگ کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ غزہ سے یہودی بستیوں کی جانب آگ لگانے والے پتنگ بھیجے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اگرچہ شروع میں صہیونی رژیم نے اسلامی مزاحمت کے چند ٹھکانوں کو نشانہ بنایا لیکن اس کے بعد کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ مقبوضہ فلسطین کے باخبر ذرائع کے بقول اگر اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم جنگ بندی کیلئے اسلامی مزاحمت کے پیش کردہ مطالبات قبول نہیں کرتی تو غزہ سے مقبوضہ فلسطین پر راکٹ حملوں کا قوی امکان پایا جاتا ہے۔
 
غزہ میں اسلامی مزاحمتی گروہوں نے اسی ہفتے کے آخر تک صہیونی رژیم کو مہلت دی ہے۔ اسلامی مزاحمت کے مطالبات میں قطر کی مالی امداد غزہ آنے کی اجازت دینا، سرحدی چوکیاں کھولنا اور تباہ شدہ گھروں کی تعمیر نو کیلئے تعمیری مواد آنے کی اجازت دینا شامل ہیں۔ حماس نے صہیونی رژیم کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس ہفتے کے آخر تک یہ مطالبات پورے نہیں کئے جاتے تو دوبارہ کشیدگی پیدا ہو جائے گی۔ دوسری طرف قاہرہ نے بھی ایک منصوبہ پیش کیا ہے جس کے تحت پہلے مرحلے میں ابراہم مینگستو اور ہشام السید آزاد ہوں گے اور حماس کی قید میں موجود دو اسرائیلی فوجیوں شاول ایرون اور ہدار گولڈن کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں گی۔ دوسرے مرحلے میں صہیونی رژیم سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کو آزاد کرے گی۔ مصر کے باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم ان مطالبات کو ماننے سے پہلے حماس کے ساتھ جنگ بندی سے متعلق بعض نئے معاہدے انجام دینے کی خواہاں ہے۔
خبر کا کوڈ : 945772
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش