0
Wednesday 4 Aug 2021 08:53

امریکا، پاکستان کو نظر انداز کرتا رہا تو دوسرے آپشنز بھی ہیں، معید یوسف

امریکا، پاکستان کو نظر انداز کرتا رہا تو دوسرے آپشنز بھی ہیں، معید یوسف
اسلام ٹائمز۔ قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے کہا ہے کہ اگر امریکی صدر جوبائیڈن ملک کی قیادت کو نظر انداز کرتے رہے تو پاکستان کے پاس اور بھی آپشن ہیں۔ فنانشل ٹائمز کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا کے صدر نے اتنے اہم ملک کے وزیراعظم سے بات نہیں کی جس کے بارے میں خود امریکا کہتا ہے کہ افغانستان سے متعلق کچھ معاملات اور کچھ طریقوں میں بناو اور توڑو، ہم اشاروں کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں، ٹھیک ہے؟ انہوں نے اس کی وضاحت کرنے سے انکار کر دیا کہ پاکستان کے دیگر کون سے آپشن ہیں۔ معید یوسف نے کہا کہ ہمیں ہر بار بتایا گیا ہے کہ (فون کال) ہو گی، یہ تکنیکی وجوہات ہیں یا کچھ بھی، لیکن واضح طور پر لوگ اس پر یقین نہیں کرتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر فون کال ایک رعایت ہے، اگر سکیورٹی تعلقات ایک رعایت ہے تو پاکستان کے پاس دیگر آپشن بھی ہیں۔ تاہم امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے اسلام آباد کو یقین دلایا ہے کہ واشنگٹن افغانستان میں امن کی بحالی میں پاکستان کے اہم کردار کو تسلیم کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ ملک یہ کردار ادا کرے۔

واشنگٹن میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے نیڈ پرائس نے کہا کہ نہ صرف امریکا چاہتا ہے بلکہ ہمارے بہت سے بین الاقوامی شراکت دار، خطے کے بہت سے ممالک بھی پاکستان سے اس معاون کردار کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لہذا ہم کام جاری رکھیں گے اور اس پر اپنے پاکستانی شراکت داروں کے ساتھ قریبی بات چیت کریں گے۔ لیکن فنانشل ٹائمز نے منگل کے روز رپورٹ کیا کہ واشنگٹن میں اپنے نمائندے کو انٹرویو دیتے ہوئے معید یوسف نے صدر بائیڈن کی وزیراعظم عمران خان سے رابطہ کرنے میں ناکامی کے بارے میں شکوہ کیا کیونکہ واشنگٹن نے طالبان کا قبضہ روکنے میں مدد مانگی۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ واشنگٹن کی جانب سے سرد مہری اس وقت سامنے آئی جب طالبان نے افغانستان کے مختلف حصوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ اخبار کے مطابق اگرچہ معید یوسف نے آپشنز کی تفصیل نہیں بتائی لیکن پاکستان نے اپنے پڑوسی ملک چین کے ساتھ گہرے تعلقات استوار کیے ہیں، جس نے اپنے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں اربوں کی سرمایہ کاری کی ہے۔

جوبائیڈن انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ ابھی بھی کئی عالمی رہنما موجود ہیں جن سے امریکی صدر جوبائیڈن ابھی تک ذاتی طور پر بات نہیں کر سکے ہیں، وہ وقت آنے پر وزیراعظم خان سے بات کریں گے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمل انتظامیہ نے پاکستان پر جھوٹ اور دھوکہ دہی کے سوا کچھ نہیں کا الزام لگانے کے بعد پاکستان کی 2 ارب ڈالر کی سکیورٹی امداد ختم کردی تھی۔ معید یوسف اور ان کے امریکی ہم منصب جیک سلیوان کے مابین گذشتہ ہفتے ہونے والی بات چیت کے حوالے سے ایک ذرائع نے ایف ٹی کو بتایا کہ افغانستان کے بارے میں بات چیت مشکل تھی لیکن سیاسی تصفیہ حاصل کرنے سے امریکا پاکستان تعلقات کو ڈرامائی انداز میں بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 946703
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش