0
Friday 10 Sep 2021 21:36

کشمیر 4 دہائیوں سے غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، حریت کانفرنس (م)

کشمیر 4 دہائیوں سے غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، حریت کانفرنس (م)
اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر کل جماعتی حریت کانفرنس (م) نے کہا ہے کہ کوئی بھی دو تنازعات والے علاقے یکساں نہیں ہوتے ہیں اور افغانستان اور کشمیر کے درمیان تنازع کی نوعیت بھی مختلف ہے۔ ایک بیان میں حریت کانفرنس (م) نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران افغانستان میں سیاسی اتھل پتھل اور افراتفری کے واقعات کے بعد جو نئی حکومت تشکیل دی گئی ہے، اس سے حریت کانفرنس (م)کو توقع ہے کہ گزشتہ چار دہائیوں سے وہاں جاری مسلسل جنگ و جدل کا ماحول اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہوجائے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ کوئی بھی دو تنازعات والے علاقے یکساں نہیں ہوتے ہیں اور افغانستان اور کشمیر کے درمیان تنازع کی نوعیت بھی مختلف ہے، تاہم ہم بحیثیت کشمیری افغانستان کے عوام کے دکھ درد کو اچھی طرح محسوس کرسکتے ہیں کیونکہ بحیثیت قوم ہم بھی کم و بیش تین چار دہائیوں سے ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں اور اس طرح کی صورتحال اقوام و ممالک پر کیا اثرات مرتب کرتے ہیں۔

بیان میں توقع ظاہر کی گئی کہ افغانی عوام جلد ہی اس صورتحال سے نکل آئیں گے اور جیسے ہی ملک اپنے عوامی خواہشات کے مطابق مستقبل کی تعمیر کا عمل شروع کرے گا، تمام علاقائی اور بین الاقوامی رکن ممالک اس کی حمایت کریں گے۔ بیان میں کہا گیا کہ حریت کانفرنس (م) یہ بھی توقع رکھتی ہے کہ افغانستان میں جو حکومت قائم ہوئی ہے وہ وسعت کا مظاہرہ کرکے سب کو ساتھ لیکر چلے گی اور یہ بات ذہن میں رکھے گی کہ دین اسلام میں انسانی مساوات، باہمی حقوق، معاشی انصاف اور مذہبی رواداری کے بنیادی اقدار ہیں، ان پر من و عن عمل کرنے کی کوشش کرے گی۔ بیان میں اس بات کی بھی امید جتلائی گئی کہ یہ اصول و اقدار ہر لحاظ سے بین الاقوامی سطح پر قابل قبول ہوں گے۔ حریت کانفرنس (م) افغانستان کے شہریوں کی سلامتی اور ملک میں تعمیر و ترقی اور خطے کے استحکام کیلئے نیک خواہشات پیش کرتی ہے
خبر کا کوڈ : 953153
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش