0
Saturday 11 Sep 2021 00:31

سلامتی کونسل میں افغان مندوب کا طالبان کو تسلیم نہ کرنے اور پابندی عائد کرنیکا مطالبہ

سلامتی کونسل میں افغان مندوب کا طالبان کو تسلیم نہ کرنے اور پابندی عائد کرنیکا مطالبہ
اسلام ٹائمز۔ سلامتی کونسل کے ورچوئل اجلاس میں افغان مندوب غلام اسحاقزی نے عالمی برادری سے طالبان کو تسلیم نہ کرنے اور ان پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے سلامتی کونسل کے ورچوئل اجلاس کے دوران غلام اسحاقزی نے اپنے خطاب میں طالبان کی نگراں حکومت کے ارکان پر اقوام متحدہ کی موجودہ پابندیوں کو برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر طالبان رہنماؤں پر سفری پابندیوں کو نرم کیا گیا یا انھیں سہولیات فراہم کی گئیں تو شدت پسند تنظیم اسے عالمی سطح پر اپنی کامیابی قرار دے گی۔ افغان مندوب نے کہا کہ طالبان حکومت کو اس وقت تک تسلیم نہ کیا جائے گا جب تک حکومت میں افغانستان کے تمام طبقات اور اقلیتوں کی نمائندگی نہ ہو۔ طالبان پر مزید پابندیاں عائد کی جائیں ورنہ یہ ہر مسلح تنظیم کی طاقت کے ذریعے حکومت قائم کرنے کا جواز بن جائے گا۔ اقوام متحدہ میں افغانستان کے مندوب غلام اسحاقزی نے پنجشیر کی صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ طالبان نے وہاں ظلم و بربریت کا بازار گرم کیا اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی ہیں۔

قبل ازیں طالبان کی جانب سے نگراں حکومت کے قیام کے اعلان پر بھی تنقید کرتے ہوئے غلام اسحاقزئی نے کہا تھا کہ 33 رکنی کابینہ میں سے 17 ارکان اقوام متحدہ کی سخت پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں اور یہ سب اہم عہدوں پر براجمان ہیں۔ افغان مندوب نے کہا کہ جب پنجشیر میں فتح کا اعلان کیا گیا تو کابل میں طالبان جنگجوؤں نے اندھا دھند ہوائی فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 20 کے قریب شہری ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہوئے۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔واضح رہے کہ غلام اسحاقزی معزول صدر اشرف غنی کی کابینہ کا حصہ تھے جو تاحال اقوام متحدہ میں مندوب کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 953212
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش