0
Saturday 11 Sep 2021 11:42

سانحہ ماڈل ٹاون، لاہور ہائیکورٹ نے جے آئی ٹی کی تشکیل کیخلاف نیا 7 رکنی لارجر بنچ تشکیل دیدیا

سانحہ ماڈل ٹاون، لاہور ہائیکورٹ نے جے آئی ٹی کی تشکیل کیخلاف نیا 7 رکنی لارجر بنچ تشکیل دیدیا
اسلام ٹائمز۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی کی تشکیل کا معاملہ، ہائیکورٹ نے جے آئی ٹی کی تشکیل کیخلاف نیا لارجر بینچ تشکیل دیدیا۔ چیف جسٹس محمد امیر بھٹی کی سربراہی میں 7 رکنی لارجر بنچ 14 ستمبر سے درخواستوں پر سماعت کرے گا۔ عدالت نے سانحہ ماڈل ٹاون کی دوسری جے آئی ٹی تشکیل دینے کا نوٹیفکیشن معطل کر رکھا ہے۔ چیف جسٹس محمد امیر بھٹی کی سربراہی میں 7 رکنی لارجر بنچ پولیس انسپکٹر رضوان قادر اور کانسٹیبل خرم رفیق کی درخواستوں پر سماعت کرے گا۔

لارجر بنچ میں جسٹس ملک شہزاد احمد خان، جسٹس مس عالیہ نیلم، جسٹس سید شہباز علی رضوی، جسٹس سردار احمد نعیم، جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اور جسٹس طارق سلیم شیخ شامل ہیں۔ درخواستگزاروں کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ سانحہ ماڈل ٹاون کی تحقیقات کیلئے 3 جنوری 2019ء کو نئی جے آئی ٹی بنائی گئی، فوجداری اور انسداد دہشتگردی قوانین کے تحت ایک وقوعہ کی تحقیقات کیلئے دوسری جے آئی ٹی نہیں بنائی جا سکتی۔ سانحہ ماڈل ٹائون کا ٹرائل تکمیل کے قریب ہے، 135 میں سے 86 گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہوچکے ہیں۔

سانحہ پر ایک جوڈیشل کمیشن اور ایک جے آئی ٹی پہلے ہی تحقیقات کرچکے ہیں۔ نئی جے آئی ٹی کی تحقیقات سے ٹرائل تاخیر کا شکار ہو جائیگا۔ سپریم کورٹ نے بهی فیصلے میں نئی جے آئی ٹی بنانے کا حکم نہیں دیا۔ نئی جے آئی ٹی حکومت کی بدنیتی کو ظاہر کرتی ہے۔ درخواست گزاروں کی جانب سے استدعا کی گئی کہ عدالت نئی جے آئی ٹی کا نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار دے، مزید استدعا کی گئی کہ جے آئی ٹی کو فوری طور پر کام کرنے سے روکے۔
خبر کا کوڈ : 953276
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش