0
Tuesday 14 Sep 2021 18:28

قبول اسلام کیلئے عمر کی کوئی حدمقرر نہیں، ڈاکٹر راغب نعیمی

قبول اسلام کیلئے عمر کی کوئی حدمقرر نہیں، ڈاکٹر راغب نعیمی
اسلام ٹائمز۔ دارالعلوم جامعہ نعیمیہ کے ناظم اعلیٰ علامہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے کہا ہے کہ قبول اسلام کیلئے عمر کی کوئی حد مقرر نہیں، اپنی مرضی اور رغبت سے کسی بھی عمر میں اسلام قبول کیا جا سکتا ہے۔ حکومت ایسی قانون سازی سے باز رہے جو قرآن و سنت کی تعلیمات سے متصادم ہو۔ جبری تبدیلی مذہب کے حوالہ سے قانون سازی کیلئے مذہبی حلقوں کو اعتماد میں لیا جائے اور تمام متعلقہ فریقوں کے تحفظات کا ازالہ کیا جائے۔ مذہب کی تبدیلی کے حوالہ سے ایسا قانون تو یورپی یونین کے ممالک میں بھی رائج نہیں، یورپ میں اگر کوئی فرد اسلام قبول کرنا چاہتا ہے تو ایسی پابندیاں وہاں بھی نہیں ہیں۔

لاہور  میں علماء کرام اور مفتیان کرام کے مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر راغب نعیمی نے کہا کہ مجوزہ تبدیلی مذہب کے حوالہ سے جید مفتیان کرام اور علماء و مشائخ کا اہم اجلاس آئندہ ہفتے طلب کیا جائے گا جس میں نئے مجوزہ قانون کے حوالہ سے تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔ تبدیلی مذہب کے حوالہ سے مجوزہ قانون کو اگر لاگو کیا جاتا ہے تو ایک تو کوئی بھی اٹھارہ سال سے کم عمر اسلام قبول نہیں کر سکے گا اور دوسرا اٹھارہ سال سے بڑا کوئی شخص بھی آسانی سے اسلام قبول نہیں کر سکے گا۔ مذہب کی تبدیلی میں ملوث فرد کو کم از کم پانچ سال اور زیادہ سے زیادہ دس سال تک قید کی سزا اور جرمانہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی طرف مجوزہ قانون تبدیلی مذہب کے حوالہ سے سخت شرائط، مبلغ کیلئے قید کی سزا اور جرمانہ اسلام کی بنیادی تعلیمات کے منافی ہے۔ جبری تبدیلی کے قانون کی آڑ میں اسلام قبول کرانے والوں کیلئے سزاوں کی تجویز سمجھ سے بالاتر ہے۔

ڈاکٹر راغب نعیمی کا کہنا تھا کہ حکومت ایسی قانون سازی سے باز رہے جو قرآن و سنت کی تعلیمات سے متصادم ہو۔ اسلام میں زبردستی تبدیلی مذہب کی کوئی گنجائش نہیں تاہم تبدیلی مذہب کیلئے کوئی عمر کی قید بھی نہیں رکھی جا سکتی۔
خبر کا کوڈ : 953809
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش