QR CodeQR Code

افغانستان میں امن و استحکام کی واحد صورت ایک مشترکہ حکومت ہے، عمران خان

18 Sep 2021 11:36

روسی ٹی وی کو انٹرویو میں وزیراعظم نے کہا کہ طالبان نے 20 برسوں میں بہت کچھ سیکھا ہے اور وہ تبدیل ہوئے ہیں، افغانستان میں افراتفری اور انسانی بحران سے اس کے تمام ہمسائے متاثر ہوں گے۔


اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام کی واحد صورت ایک مشترکہ حکومت ہے۔ روسی ٹی وی کو انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کہا طالبان نے 20 برسوں میں بہت کچھ سیکھا ہے اور وہ تبدیل ہوئے ہیں، افغانستان میں افراتفری اور انسانی بحران سے اس کے تمام ہمسائے متاثر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں افغان سرزمین سے دہشت گردی کا بھی خطرہ ہے، تین دہشت گرد گروہ پہلے ہی افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کرا رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بھارت پروپیگنڈا کر رہا ہے، پاکستان کیسے اس جنگ میں مدد فراہم کر سکتا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا پاکستان نے افغان فوج کو لڑنے سے منع کیا تھا؟۔ وزیراعظم عمران خان نے یہ بھی کہا کہ طالبان حکومت کو تسلیم کیا جانا بہت اہم قدم ہو گا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ افغانستان تاریخی دو راہے پر کھڑا ہے، اب وہ استحکام کی جانب بڑھے گا یا افراتفری، انسانی بحران اور پناہ گزینوں کا ایسا بڑا مسئلہ پیدا ہوگا جس سے سب ہی ہمسائے متاثر ہوں گے۔ آر ٹی عربی سروس کو دیے گئے انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دہشتگردی کا خطرہ بھی موجود ہے، طالبان کی کامیابی کے بعد پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا مہم شروع کر دی گئی، افغانستان میں امن و استحکام کی واحد صورت ایک جامع حکومت کی تشکیل ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا سربراہ اجلاس اس لحاظ سے اہم ہے کیونکہ اس میں افغانستان کے تقریباً تمام ہمسایہ ملک شریک ہیں، پورے خطے کیلئے اس وقت افغانستان سب سے اہم موضوع ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے جو یا تو چالیس سال کی جنگی صورتحال کے بعد استحکام کی طرف بڑھے گا یا پھر یہاں سے غلط سمت میں چلا گیا تو اس سے افراتفری، انسانی بحران، پناہ گزینوں کا ایک بڑا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے، جو ایک بڑے مسئلے کی صورت اختیار کر سکتا ہے جس سے تمام ہمسایہ ممالک متاثر ہوں گے۔

پاکستان کی طرف سے طالبان کی مدد کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اگر تصور کر لیا جائے کہ پاکستان نے طالبان کی امریکا کے خلاف مدد کی تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ پاکستان، امریکا اور تمام یورپی ملکوں سے طاقتور ہے اور یہ کہ پاکستان ایک ہلکے ہتھیاروں سے لیس ملیشیا کے ساتھ جس کی تعدادساٹھ، پینسٹھ، ستر ہزار ہے اور وہ بہترین ہتھیاروں سے لیس تین لاکھ فوجیوں پر مشتمل فوج کو شکست دینے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے بدقسمتی سے ہمارے خلاف ایک پروپیگنڈا مہم شروع کی گئی ہے، پہلی بات تو یہ ہے کہ افغان حکومت کی جانب سے اپنی نااہلی، کرپشن اور افغانستان میں مؤثر گورننس نہ کرسکنے کی صلاحیت سے توجہ ہٹانے کیلئے یہ پروپیگنڈا شروع کیا گیا، اس حکومت کو افغانوں کی اکثریت کٹھ پتلی حکومت سمجھتی رہی ہے کیونکہ اس حکومت کی افغانوں کی نظر میں کوئی عزت نہیں تھی۔


خبر کا کوڈ: 954449

خبر کا ایڈریس :
https://www.islamtimes.org/ur/news/954449/افغانستان-میں-امن-استحکام-کی-واحد-صورت-ایک-مشترکہ-حکومت-ہے-عمران-خان

اسلام ٹائمز
  https://www.islamtimes.org