0
Wednesday 22 Sep 2021 18:30

غاصب صہیونی رژیم بہت جلد ہماری شرائط قبول کرنے پر مجبور ہو جائے گی، حماس

غاصب صہیونی رژیم بہت جلد ہماری شرائط قبول کرنے پر مجبور ہو جائے گی، حماس
اسلام ٹائمز۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق غزہ میں اسلامی مزاحمت کی تحریک حماس کے سیاسی شعبے کے رکن زاہر جبارین نے غاصب صہیونی رژیم کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے سے متعلق معاہدے کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی رژیم بہت جلد ہماری شرائط قبول کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حماس گذشت سات برس سے مقبوضہ فلسطین میں صہیونی رژیم کے ہاتھوں قید فلسطینی شہریوں کو آزاد کروانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی شرائط واضح طور پر ثالثی کرنے والے ممالک کو پیش کر دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایسے تمام فلسطینی قیدیوں کو آزاد کروائیں گے جنہیں صہیونی جیلوں میں چالیس سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور ہم ہر گز اپنی اس شرط سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ زاہر جبارین نے کہا: "ہمارا ایک روڈمیپ ہے جو ہم نے ثالثی کرنے والے تمام ممالک کو فراہم کر دیا ہے لہذا اس وقت گیند صہیونی رژیم کے میدان میں ہے۔"
 
حماس کے سیاسی رہنما زاہر جبارین نے کہا: "اگر غاصب صہیونی رژیم اپنے قید فوجیوں کو واپس لینے کی خواہشمند ہے تو ہم واضح کر چکے ہیں کہ اسلامی مزاحمت کیا چاہتی ہے۔ اگر دشمن ہمارے ساتھ مفاہمت چاہتا ہے تو اسے ہماری تمام شرائط قبول کرنی پڑیں گی۔" انہوں نے کہا کہ ہم نے قیدیوں کے تبادلے کیلئے ایک جامع منصوبہ تیار کر رکھا ہے اور ہم اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ صہیونی رژیم کب فلسطینی قیدیوں کو آزاد کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا: "غاصب صہیونی رژیم خواہ مخواہ قیدیوں کو آزاد کرنے میں دیر کر رہی ہے۔ وہ غزہ میں اپنے فوجی قیدیوں کو آزاد کروانے کی قیمت چکانا نہیں چاہتی۔ قیدیوں کے تبادلے میں واحد رکاوٹ صہیونی دشمن کا تذبذب ہے۔ وہ اس بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کر پا رہا۔ لیکن غاصب صہیونی رژیم کو آخرکار ہماری شرائط قبول کرنا پڑیں گی۔" زاہر جبارین نے حال ہی میں صہیونی جیل جلبوع سے چھ فلسطینی قیدیوں کے فرار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ان کا نام بھی مطلوبہ فلسطینی قیدیوں کی فہرست میں درج کر رکھا ہے۔
خبر کا کوڈ : 955202
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش