0
Monday 27 Sep 2021 23:38
14 اسیروں کی رہائی کیلئے یوم اربعین کو دھرنے کا اعلان آغا راحت حسین نے کیا تھا

مذاکرات کامیاب، گلگت میں یوم اربعین کا جلوس دھرنے میں تبدیل کرنے کا پروگرام موخر

مذاکرات کامیاب، گلگت میں یوم اربعین کا جلوس دھرنے میں تبدیل کرنے کا پروگرام موخر
اسلام ٹائمز۔ حکومتی ٹیم کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد یوم اربعین کو گلگت میں طے شدہ دھرنے کا پروگرام موخر کر دیا گیا۔ سانحہ پانچ اکتوبر 2005ء کے 14 اسیروں کی رہائی کیلئے امامیہ کونسل اور آغا راحت حسین نے یوم اربعین کا جلوس دھرنے میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے بعد حکومتی مشینری متحرک ہوگئی اور اس نے اسیروں کے ورثاء، امامیہ سپریم کونسل سے مذاکرات کیے۔ ذرائع نے اسلام ٹائمز کو بتایا کہ اتوار کی رات بھر مذاکرات جاری رہے، تاہم کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔ پیر کے روز دوبارہ مذاکرات ہوئے جو کامیاب ہوئے۔ آغا راحت حسین، امامیہ سپریم کونسل کے ممبران کے ساتھ حکومتی ٹیم کے کامیاب مذاکرات کے بعد گلگت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیر خزانہ جاوید منوا، مشیر خوراک شمس لون، مشیر قانون سہیل عباس شاہ، معاون خصوصی الیاس صدیقی نے کہا کہ آغا راحت حسین اور مرکزی امامیہ کونسل نے کھلے دل کے ساتھ حکومتی یقین دہانی پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا، جس کے بعد گلگت بلتستان میں پیدا ہونے والی ابہام اور غیر یقینی کی فضا ختم ہوگئی، جس پر ہم آغا راحت اور امامیہ کونسل کے شکرگزار ہیں۔

اضطراب کی فضا ختم ہوگئی، امامیہ سپریم کونسل نے کھلے دل کا مظاہرہ کیا، جاوید منوا
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ جاوید علی منوا نے کہا کہ گذشتہ کئی روز سے ایک اضطراب کی کیفیت تھی، صورتحال مخدوش نظر آرہی تھی، دھرنے کے اعلان کے بعد وزیراعلیٰ کی جانب سے قائم پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں اس معاملے کو حل کرنے کیلئے ایک سب کمیٹی بنائی گئی۔ سب کمیٹی نے اسیران کے لواحقین، امامیہ سپریم کونسل اور آغا راحت کے ساتھ مذاکرات کیے اور ان مذاکرات کے نتیجے میں دھرنا موخر کرنے کا اعلان کیا گیا۔ جاوید منوا کا کہنا تھا کہ جس فراخدلی کے ساتھ امامیہ سپریم کونسل نے امن کے قیام کیلئے کوشش کی، بالخصوص آغا راحت حسین نے حکومت پر اعتماد کرتے ہوئے ہماری گزارشات کو سن کر دھرنا ملتوی کرنے کا اعلان کیا، جس پر ہم ان کے شکرگزار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صورتحال کو معمول پر لانے کیلئے حکومت، صوبائی کابینہ، ریاستی اداروں نے ایک ٹیم بن کر کام کیا اور جس طرح کے خدشات اور تحفظات تھے، وہ ختم ہوگئے، قانونی پہلوﺅں کا جائزہ لینے اور قانونی رائے لینے کیلئے وکلاء برادری کا تعاون بھی شامل حال رہا، ہم ان کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسیروں کے کیس کو عدالتی کارروائی کے ذریعے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، فریقین عدالت جائیں گے اور عدالتی کارروائی، رول آف لاء کے ذریعے معاملے کا حل نکالا جائے گا اور اس کے اوپر آغا راحت اور امامیہ سپریم کونسل نے حکومت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

معاملہ عدالتی کارروائی کے ذریعے حل ہوگا، سہیل عباس شاہ
اس موقع پر مشیر قانون سہیل عباس شاہ نے کہا کہ یہ کیس فوجی عدالت میں چلا، جہاں سے فیصلہ آنے کے بعد لواحقین سپریم کورٹ گئے، سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ اپیل کا فورم ہائی کورٹ ہے، آپ وہاں جائیں۔ اسیران کے ورثاء نے پھر لاہور ہائیکورٹ میں اپیل کی، جہاں عدالت نے فیصلہ دیا کہ آپ کا دائرہ اختیار یہاں نہیں ہے۔ پھر ورثاء واپس سپریم کورٹ گئے، سپریم نے فیصلہ دیا کہ چیف کورٹ کو ہی اپیل کا اختیار حاصل ہے۔ چونکہ اس وقت گلگت بلتستان میں وکلاء کی ہڑتال جاری ہے، اس وجہ سے اس کیس میں تاخیر ہوئی، ہڑتال ختم ہونے کے بعد یہ کیس چیف کورٹ میں سنا جائے گا اور اس معاملے کو عدالتی کارروائی کے ذریعے حل کیا جائے گا۔ عدالتوں پر اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے، جس پر ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

مرکزی امامیہ کونسل کیجانب سے جاری بیان
دریں اثناء مرکزی امامیہ کونسل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پیر کے روز امامیہ سپریم کونسل گلگت بلتستان کا اہم اجلاس آغا راحت حسین الحسینی کی زیر صدارت امامیہ جامع مسجد گلگت منعقد ہوا۔ اجلاس میں اراکین امامیہ سپریم کونسل، مرکزی انجمن امامیہ گلگت اور نمائندگان اسراء کمیٹی کے ممبران نے شرکت کی۔ امامیہ سپریم کونسل کی پارلیمانی امن کمیٹی کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد چہلم امام حسینؑ کے دن ہونے والے احتجاجی دھرنا کے طے شدہ پروگراموں کو ملتوی کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے۔ لہٰذا گلگت بلتستان میں تمام جلوس چہلم امام حسین اپنے روایتی راستوں سے ہوتے ہوئے اپنی اپنی منزلوں پر اختتام پذیر ہونگے۔

آغا راحت کی طرح قاضی نثار سے بھی مثبت پیغام کی امید رکھتے ہیں، شمس لون
صوبائی مشیر خوراک شمس لون نے کہا کہ جس طرح آغا راحت نے کھلے دل کے ساتھ امن کا پیغام دیا ہے، اسی طرح کا پیغام ہم قاضی نثار سے بھی امید رکھتے ہیں۔ گلگت میں حکومتی ٹیم کی پریس کانفرنس کے داران شمس لون کا کہنا تھا کہ آغا راحت کا دل کی گہرایوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں، ساتھ ہی ان کے ویژن کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں، جس طرح آغا راحت نے کھلے دل کے ساتھ امن کو ترجیح دی اور انتہائی خلوص کے ساتھ دھرنے کا اعلان واپس لیا، میں ان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ گلگت بلتستان میں کسی صورت وہ ماحول برداشت نہیں کرسکتے، جہاں پر بدامنی ہو۔

مشیر خوراک نے کہا کہ پچھلے دنوں آغا راحت نے کھلے دل کے ساتھ ایک مثبت پیغام دیا کہ عید اور جمعہ کی ایک ایک نماز مشترکہ طور پر اہل سنت مسجد اور اہل تشیع مسجد میں ادا کی جائے۔ اس بات پر میں ان کو سلام پیش کرتا ہوں۔ آغا راحت نے خطے کے بیس لاکھ عوام کے دل جیت لیے اور کھلے دل کا مظاہرہ کیا اور میں اس موقع پر قاضی نثار سے بھی گزارش کرونگا کہ جس طریقے سے آغا راحت نے امن کے لیے پیغام دیا ہے، اسی طریقے سے اسی طرح کا پیغام آپ سے بھی ہم امید رکھتے ہیں، آپ کی طرف سے امن اور بھائی چارگی کا پیغام آئے۔ انہوں نے کہا کہ اس خطے کے اندر ایک ہندو بھی ہے تو ان کے عقیدے کا احترام ہم سب پر فرض ہے۔ حکومت ہر اس شخص کے ساتھ کھڑی ہوگی، جو مظلوم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں اگر کسی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے یا حق تلفی ہوئی ہے تو یقین دہانی کراتے ہیں کہ ہم مظلوم کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

پس منظر 
پانچ اکتوبر 2005ء کو گلگت میں فسادات کے دوران دو رینجرز اہلکار قتل ہوئے تھے، جس کے الزام میں چودہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا اور نون لیگ کی حکومت کے دور میں ان کا کیس فوجی عدالت منتقل کیا گیا۔ فوجی عدالت سے عمز قید کی سزا کا فیصلہ سنایا گیا۔ فوجی عدالت کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیل دائر کی گئی۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ فوجی عدالت کے فیصلے کیخلاف اپیل کا فورم چیف کورٹ ہے، لہٰذا وہاں رجوع کیا جائے۔ اسراء کمیٹی کا موقف ہے کہ مختلف حیلے بہانوں سے چیف کورٹ میں کیس کو نہیں لگنے دیا جا رہا۔ محرم الحرام میں اسیروں کے لواحقین نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے باہر دھرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم حکومتی یقین دہانی کے بعد دھرنا ملتوی کیا گیا تھا۔ ورثاء کا موقف ہے کہ فوجی عدالت سے یکطرفہ فیصلہ سنا گیا، اسیروں کو فیئر ٹرائل کے حق سے محروم رکھا گیا۔

قانونی ماہرین کے سوالات
گلگت کے سینیئر وکیل احسان علی ایڈووکیٹ سے منسوب ایک بیان جو سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے، جس میں انتہائی اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ احسان ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ قیدیوں کا مقدمہ انسداد دہشت گردی کورٹ گلگت میں زیر سماعت تھا اور کیس مکمل ہو کر آخری بحث کیلئے مقرر ہوا تھا، مگر اس دوران سابق وزیراعلیٰ حفیظ الرحمان نے خود سے یا کسی کو خوش کرنے کیلئے سراسر غیر آئینی و غیر قانونی طریقے سے نامعلوم وجوہات کی بنا پر اس کیس کو انسداد دہشت گردی کورٹ سے راولپنڈی فوجی عدالت میں منتقل کروایا۔ حالانکہ قانونی طور پہ گلگت انسداد دہشت گردی کورٹ سے کوئی فوجداری کیس کسی صورت بھی فوجی عدالت واقع راولپنڈی منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ انسداد دہشت گردی کورٹ کا جج بھی اس کیس کو راولپنڈی منتقل کرنے سے روک سکتا تھا، مگر اس نے بھی روکنے کی کوشش نہیں کی، نیز وزیراعلیٰ یا گورنر یا وزیراعظم کوئی بھی ایگزیکٹیو اتھارٹی گلگت سے کسی ملزم کا کیس پاکستان کے کسی شہر میں واقع فوجی یا عام عدالت منتقل نہیں کرسکتی۔

احسان ایڈووکیٹ کے مطابق یہاں ایک اور قانونی نقطہ بھی ہے کہ راولپنڈی میں قائم فوجی عدالت جس کا دائرہ اختیار راولپنڈی ڈویژن تک محدود ہے، وہ کیسے گلگت بلتستان کی ایک عدالت میں زیر سماعت فوجداری مقدمہ کو سننے اور اس میں فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتی ہے جبکہ قانون کے مطابق جی بی جیسے ایک متنازعہ خطے کا کوئی کیس پاکستان کی کسی فوجی عدالت میں کیسے بھیجا جا سکتا ہے؟ یہ تو انٹر نیشنل لاء اور UNCIP کی قراردادوں کی بھی خلاف ورزی ہے جبکہ مروجہ قوانین کے تحت تو ایک ضلع کا کیس کسی دوسرے ضلع کی عدالت نہیں سن سکتی۔ اس لئے راولپنڈی فوجی عدالت کے فیصلے کی کوئی آئینی و قانونی حیثیت نہیں۔ جی بی حکومت راولپنڈی فوجی عدالت کے اس غیر آئینی غیر قانونی اور بلا اختیار فیصلے کو از خود کالعدم قرار دیکر ان مظلوم اسیروں کو جیل سے رہائی دینے کی پابند ہے، نیز ان مظلوم قیدیوں کو ابتک بلاوجہ قید رکھنے پر حکومت فی قیدی کم از کم ایک کروڑ معاوضہ بابت ہرجانہ دینے کی بھی پابند ہے۔
خبر کا کوڈ : 956026
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش