0
Sunday 10 Oct 2021 20:40

کوئی بھی حکمران آئین، ملک و قوم کے ساتھ مخلص نہیں رہا، جماعت اسلامی

کوئی بھی حکمران آئین، ملک و قوم کے ساتھ مخلص نہیں رہا، جماعت اسلامی
اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا ہے کہ ملک کی نظریاتی سرحدوں سے لیکر نکاح و خاندانی نظام کی حفاظت تک منبر و محراب اور دینی مدارس کا بڑا کردار ہے، کلمہ طیبہ کے نام سے معرض وجود میں آنے والے ملک پاکستان کو پہلے دن سے سیکولر بنانے کی کوششیں شروع کر دی گئی تھیں، مگر اس وقت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، سید سلیمان ندوی و دیگر علماء نے اپنی دانش مندی سے 22 نکات پیش کرکے بتا دیا تھا کہ ریاست کا قانون اسلامی ہو سکتا ہے، 1973ء کا آئین بنانے میں ان 22 نکات کا اہم عمل دخل ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے قباء آڈیٹوریم کراچی میں جماعت اسلامی کے تحت منعقدہ مہتممین مدارس کی دو روزہ تربیت گاہ سے خطاب کے دوران کیا۔

مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا کہ بدقسمتی سے قیام پاکستان سے لیکر آج تک برسر اقتدار آنے والی قیادت آئین تو کیا ملک و قوم کے ساتھ بھی مخلص نہیں رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عملی طور پر آئین کے برعکس اقدامات اور لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کر رکھا ہے، جس کی وجہ سے ملک آج مہنگائی، بیروزگاری سمیت مختلف مسائل کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ گھریلو تشدد، وقف املاک اور تبدیلی مذہب بل ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے، اس صورتحال میں علماء کو بیدار رہ کر مزید اپنا اپم کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس موقع پر صوبائی نائب امیر حافظ نصراللہ عزیز، ممتاز حسین سہتو، عبدلاغفار عمر، نائب قیم مولانا حزب اللہ جکھرو، مولانا عبدالوحید، مولانا حبیب حنفی، مولانا عرفان عادل و دیگر نے بھی خطاب کیا۔
خبر کا کوڈ : 958046
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش