0
Monday 11 Oct 2021 22:10

جی بی میں حکومت کے بعد اب عدلیہ اور مقننہ پر تالے لگ گئے، امجد حسین ایڈووکیٹ

جی بی میں حکومت کے بعد اب عدلیہ اور مقننہ پر تالے لگ گئے، امجد حسین ایڈووکیٹ
اسلام ٹائمز۔ قائد حزب اختلاف و صوبائی صدر پیپلز پارٹی گلگت بلتستان امجد حُسین ایڈووکیٹ نے کہا کہ جی بی میں حکومت پر پہلے سے تالے لگے ہوئے تھے، اب عدلیہ اور مقننہ پر بھی تالے لگ گئے ہیں۔ حکومت نہیں چل رہی ہے، وزیر اعلیٰ اور وزراء استفیٰ دیکر گلگت بلتستان کے لوگوں پر احسان کریں۔ اپنے ایک بیان میں اپوزیشن لیڈر جی بی اسمبلی کا کہنا تھا کہ چائنہ بارڈر مسلسل دو سال سے بند ہے، جی بی میں معاشی سرگرمیاں معطل ہیں، غربت میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے، اب صاحب استطاعت لوگ بھی بھیک مانگنے پر محبور ہیں، حکومت کہیں بھی نظر نہیں آ رہی ہے۔ 375 ارب روپے کا پیکج کشمیر افیئرز میں بند ہے۔ وفاقی حکومت نے میگا منصبوں میں صوبائی حکومت کو اختیارات سے فارغ کر دیا ہے جبکہ گلگت بلتستان میں بھی تعمیرات اور برقیات میں ترقیاتی سکیمیں بھی جمود کا شکار ہیں۔

اپوزیشن لیڈر جی بی اسمبلی کا کہنا تھا کہ لوکل گورنمنٹ کی سکیموں پر پچھلے ڈیڑھ سال سے کٹ لگ گیا ہے جبکہ محکمہ ایریگیشن کا بجٹ بھی ریلیز نہیں ہو سکا ہے، حکومت کیا کرنے جا رہی ہے کسی کو کچھ نہیں پتا۔ حکومت وہ کام کرتی ہے جسے عوام کا نقصان ہے۔ جی بی کے ساڑھے چودہ لاکھ لوگ اس وقت کسم پُرسی کی زندگی گزار رہے ہیں جبکہ حکمران 54 ہزار ملازمین اور اپنے پروٹوکول کے لئے 47 ارب کا بجٹ مختص کر کے لگژری گاڑیوں سے اسلام آباد میں مزے کر رہے ہیں، حکومت عملاً گلگت بلتستان میں نہیں بلکہ جی بی ہاوس اور بیرون ملک فرار ہوئی ہے۔ جی بی میں اس وقت سیکریٹریز بھی نظام سے نالاں ہیں، حکومت فوراً مستفیٰ ہو کر عوام پر احسان کرے ورنہ گلگت بلتستان مسائلستان کا گڑھ بنے گا۔ قائد حزب اختلاف نے مزید کہا حکومت نے خود فنانس بل لایا اب مسلسل فنانس بل کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

امجد حسین ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ حکومت اب فنانس بل کی خلاف ورزی پر جیل جانے کے لئے تیار ہو جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جی بی کی عدالتیں مسلسل دو ماہ سے بند ہیں، حکومت وکلاء سے مذاکرات کے لئے تیار نہیں، لگتا ہے اب حکومت وکلاء کے دھرنے کا انتظارکر رہی ہے۔ جی بی کی تاریخ میں نالائق اور کٹ پتلی حکومت یہاں کے لوگوں پر مسلط کی گئی ہے، جس کے بعد یہاں کی عوام کے بنیادی مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی محکمے میں عوامی مسائل حل نہیں ہو رہے ہیں، نظام مکمل طور پر مفلوج ہے، سیکریٹریز سے لیکر نیچے تک کے ملازمین اس نظام سے تنگ آ کر کام کرنے سے ہاتھ اٹھا لیے ہیں۔ یہی حکومت رہی تو نظام چلنا بہت مشکل ہوگا اور ہر طبقہ اپنے حقوق کے حصول کے لئے روڈ پر آئے گا۔
خبر کا کوڈ : 958210
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش