0
Sunday 17 Oct 2021 17:25

گلگت بلتستان میں دہشتگرد داخل ہوچکے ہیں، ادارے ہوش کے ناخن لیں، سید علی رضوی

افغانستان میں اہل تشیع کے قتل عام کیخلاف سکردو میں آئی ایس او کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ
گلگت بلتستان میں دہشتگرد داخل ہوچکے ہیں، ادارے ہوش کے ناخن لیں، سید علی رضوی
اسلام ٹائمز۔ افغانستان میں اہل تشیع کیخلاف مسلسل دہشتگردی میں ملوث امریکہ، اسرائیل اور ان کی بغل بچہ دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف آئی ایس او بلتستان ڈویژن کی جانب سے سکردو میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرے سے سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان آغا سید علی رضوی، ڈپٹی سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم ضلع سکردو مولانا علی حسین، عوامی ایکشن کمیٹی بلتستان کے چیئرمین نجف علی اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے صوبائی سربراہ سید علی رضوی نے کہا کہ افغانستان میں شیعوں کے خلاف دہشتگردی قابل مذمت اور قابل سزا ہے، بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ داعش اور طالبان نے کیا، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ نے مسلمانوں کا چہرہ مسخ کرنے کی سازش کی، یہ داعش اور طالبان، لشکر جھنگوی اسی سازش کا شاخسانہ ہیں، یہ سب ایک ہیں، بس نام بدل گئے ہیں۔ دنیا میں صرف دو ہی بلاک ہے، ایک حسینی بلاک اور ایک بزیدی بلاک ہے۔ دنیا پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ امریکہ کے ہاتھوں کھیلنے کا نتیجہ خطرناک ہے۔

سید علی رضوی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ پاکستانی ادارے ہوش کے ناخن لیں اور اپنے موقف کو واضح کریں کہ آیا وہ طالبان کے ساتھ ہیں یا نہیں، پاکستان میں طالبان کے ظلم پر خاموشی کیوں ہیں؟ کیوں چھپ چھپ کر طالبان کی مدد کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رحمن ملک کے بیان کے مطابق گلگت بلتستان سمیت پورے پاکستان میں طالبان موجود ہیں، یہ گڈ اور بیڈ طالبان کا فرق سمجھ سے بالاتر ہے، طالبان طالبان ہے، داعش داعش اور یزید یزید ہے۔ افغان طالبان نے اہل تشیع سے وعدہ کیا تھا کہ ان کے ساتھ نرم گوشہ اختیار کیا جائے گا، کیا یہ نرم گوشہ ہے کہ گذشتہ ایک ہفتے میں سینکڑوں خاندان اجڑ چکے ہیں، جو لوگ دہشتگردی کر رہے ہیں، انہیں پکڑنا ہوگا۔

صوبائی سربراہ اہم ڈبلیو ایم کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں مختلف انداز سے اس ریجن کے عوام کو دبانے کی کوششیں ہو رہی ہیں، آئین دینے اور ریلیف دینے میں کوتاہیاں ہو رہی ہیں، عوام کب تک مایوس رہیں گے، اگر جی بی کے عوام کو دوبارہ پسانے کی کوشش کی گئی تو ہم کبھی برداشت نہیں کرینگے۔ ہمیں وہ آئین چاہیے جس میں ہماری عزت ہو اور ہم خود اپنے عوام کیلئے قانون بنا سکیں، اگر ایسا قانون نافذ کرنے یا کوئی ایسا سیٹ اپ دے کر ہماری زمینوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی، یہاں فحاشی پھیلانے اور عوام کو پریشر میں لانے کی کوشش کی گئی تو اس کا نتیجہ صحیح نہیں ہوگا۔ ہم سے پوچھا جائے کہ ہمیں کیا چاہیئے، ورنہ جو بھی ہوگا، اس کی ذمہ داری آپ پر عائد ہوگی۔

سید علی رضوی نے کہا کہ ہم اپنے موقف کو واضح کرکے آگے بڑھیں گے، راستے میں جو بھی آئے گا سرنگون ہوگا۔ ہمارے بچوں کو کالجوں میں داخلے نہیں مل رہے ہیں، تعلیم کے میدان میں، انفراسٹرکچر کے میدان میں پیچھے دھکیلنے کی سازشیں ہو رہی ہیں، یہ ہمارے درمیان افرا تفری اور اتحاد نہ ہونے کی وجہ سے ہے، اگر ہم اتحاد سے آگے بڑھیں گے تو سب کچھ ملے گا۔ میں اداروں سے کہنا چاہتا ہوں کہ غواڑی کے واقعے کے بعد جو کچھ حالات بن رہے ہیں، اس پر توجہ دی جائے۔ غواڑی کے مقامی لوگوں کا کوئی قصور نہیں، ہم ان کے مدرسے میں جاتے ہیں، وہ ہمارے مدرسے میں آتے ہیں، ہماری آپس میں رشتہ داریاں ہیں، لیکن باہر سے داعش اور طالبان داخل ہوچکے ہیں، جس کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے، میں نے ایجنسیوں کو بھی بتا دیا ہے کہ ٹرک اور بسیں بھر بھر کر آچکے ہیں، ہوش کے ناخن لیں، جی بی کے امن کو خراب کرنے کیلئے دو ماہ تک چیک پوسٹوں کو خالی رکھا گیا، تاکہ دہشتگردوں کو داخل ہونے کا موقع مل سکے۔

انہوں نے گذشتہ دو ہفتوں سے جاری سول سوسائٹی کے احتجاج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے سول سوسائٹی کے جوان گذشتہ بارہ دنوں سے احتجاج کر رہے ہیں، ہم دیکھ رہے ہیں کہ ذمہ دار نوٹس لیں گے، اگر نوٹس نہ لیا گیا تو پورے سکردو کے عوام کو یادگار چوک پر دوبارہ جمع کرینگے۔ انتظامیہ سن لے، جوانوں کے مطالبات پر توجہ دی جائے، ورنہ ہم بھی میدان میں کود پڑیں گے۔ سید علی رضوی کا کہنا تھا کہ وزراء کو کہنا چاہتا ہوں کہ ہم نے آپ کو ایک سال دیدیا ہے، اب کام کیا جائے۔ پہلے پی ٹی آئی کے وزراء کہتے تھے کہ ہمیں ٹائم دیا جائے، ہم نے دیدیا۔ یہ درست ہے کہ پچھلی حکومتوں نے تعلیم، پانی و بجلی کیلئے کچھ نہیں کیا، لیکن پی ٹی آئی والوں نے کوئی کام بھی شروع کیا ہے۔؟

مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے شیخ حسین علی نے کہا کہ افغانستان میں بدترین ظلم پر حکومت نے مذمت تک نہیں کی۔ افغانستان کے دہشتگردوں سے پاراچنار اور کوئٹہ بھی خطرے میں ہیں۔ حکومت اور مقتدر ادارے توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ خطبائے آئمہ جمعہ سے التماس کرتا ہوں کہ وہ مذمت پر اکتفا نہ کریں بلکہ ہمیں حکومتوں کو للکارنا ہوگا، اس کے بغیر اہل تشیع کی حفاظت ممکن نہیں، ہر فورم پر آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ سابق صدر آئی ایس او مظہر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں بم دھماکوں میں امریکہ اور اسرائیل ملوث ہیں، افغانستان میں ناکام ہونے کے بعد امریکہ ایک بار پھر وہاں بم دھماکوں اور دہشتگردی کے ذریعے داخل ہونا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور پاک فوج سے ایک ہی مطالبہ ہے کہ وہ افغانستان کی حکومت سے بات کرکے ملت تشیع کی حفاظت کو یقینی بنائے۔

عوامی ایکشن کمیٹی بلتستان کے چیئرمین نجف علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج افغانستان میں سینکڑوں لوگ شہید ہو رہے ہیں لیکن جانوروں، بلیوں اور کتوں کے حقوق کی بات کرنے والے آج خاموش ہیں، اقوام متحدہ خاموش ہے، یہ اقوام متحدہ کفن چوروں کی انجمن ہے۔ اسلامی ممالک کے سربراہان خاموش ہیں، کب تک یہ لوگ امریکہ اور اسرائیل کے پٹھو بن کر رہیں گے۔
خبر کا کوڈ : 959178
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش