0
Wednesday 17 Nov 2021 20:37

ریاستی اداروں میں موجود کالی بھیڑیں فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دے رہی ہیں، علامہ صادق جعفری

ریاستی اداروں میں موجود کالی بھیڑیں فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دے رہی ہیں، علامہ صادق جعفری
اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن کے سیکریٹری جنرل علامہ محمد صادق جعفری نے کہا ہے کہ ملک تاریخ کی مشکل اور خطرناک ترین دور سے گذر رہا ہے، ہمیں معاشی توانائی و سیاسی حوالے سے بدترین بحران کا سامنا ہے، ریاستی اداروں میں موجود کالی بھیڑیں فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دیکر قومی سلامتی و استحکام کو مزید نقصان پہنچانے کے درپے ہیں، کاونٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن جس میں شیعہ مکتب فکر کے متعلق ملیٹینٹ ونگ یعنی عسکری ونگ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، جو انتہائی نامناسب فعل اور قابل مذمت اقدام ہے، فرقہ وارانہ منافرت پر مبنی یہ نوٹیفکیشن 8 کروڑ اہل تشیع عوام کی دل آزاری اور مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کا سبب بنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد دہشت گرد ہوتا ہے، اسے کسی مخصوص مذہب و مسلک سے جوڑنا متعصبانہ طرز عمل ہے۔

علامہ صادق جعفری نے کہا کہ وطن عزیز میں 80 ہزار سے زائد بے گناہ پاکستانیوں، فوجی جوانوں اور معصوم طلباء و طالبات کو بے دردی کے ساتھ دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا کیا ان سب کے قاتل شیعہ کتب فکر سے تعلق رکھتے تھے؟ اگر ان کا تعلق دوسرے مسالک و مکاتب سے تھا تو اس کے خلاف ریاستی اداروں نے مخصوص مسلکی سیل کیوں قائم نہیں کئے؟ سی ٹی ڈی کے ڈی آئی جی عمر شاہد کی جانب سے اپنے ٹرانسفر اور نئی پوسٹنگ کے ایام میں 10 برس بعد ایک سفارت کار کے قتل کی تحقیقات کا دوبارہ آغاز اور اسے ایک مسلک کے ساتھ نتھی کرنا ان کے ذاتی عناد و مفاد کو ظاہر کرتا ہے، ہم وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، آئی جی پولیس سندھ مشتاق مہر اور دیگر اعلیٰ حکومتی و عسکری حکام سے مطالبہ کرتے ہیں ہے کہ فوری طور پر اس متعصبانہ نوٹیفکیشن کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا جائے اور ملک میں فرقہ وارانہ منافرت کو فروغ دینے والے متعصب پولیس افسران کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے۔
خبر کا کوڈ : 964067
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش