0
Monday 22 Nov 2021 15:13

لاہور، عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں ریاست مخالف تقریریں

لاہور، عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں ریاست مخالف تقریریں
رپورٹ: توقیر کھرل

لاہور میں ہفتہ اور اتوار کو دو روزہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ یہ کانفرنس عاصمہ جہانگیر کی یاد میں گذشتہ تین سال سے منعقد کی جا رہی ہے، پچھلے سال کورونا وبا کے باعث آن لائن منعقد ہوئی تھی۔ وکلاء، دانشوروں، سیاستدانوں اور صحافی حضرات نے کانفرنس سے خطاب کیا۔ امسال اس کانفرنس کے انعقاد کے بعد ملکی اداروں میں نئی ابحاث نے جنم لے لیا ہے۔ سپریم کورٹ بار کے سابق صدر علی احمد کرد کی جارحانہ تقریر سب سے زیادہ نمایاں رہی، انہوں نے اپنی تقریر میں عدلیہ پہ کھُل کر تنقید کی۔ تابڑ توڑ حملوں کے دوران انہوں نے ایک جرنیل، ایک جرنیل کہتے ہوئے جارحانہ انداز اپنایا تو ہال میں وکلاء نے آزادی آزادی کے نعرے بلند کئے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عسکری ادارے کے سربراہ کے خلاف اس قدر نازیبا الفاط کے چناو کے بعد آزادی کے نعرے گویا پہلے سے تیار تھے۔ نعروں کے بعد سینیٹر اعظم تارڑ نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ایسی تقریریں اور نعرے سیاسی سیشن میں لگائے جائیں۔ علی احمد کرد نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا ایک جرنیل 22 کروڑ عوام پر حاوی ہے یا تو اس جرنیل کو نیچے آنا پڑے گا یا لوگوں کو اوپر جانا پڑے گا، دو ہی صورتیں ہیں، تب ہی برابری ہوگی۔ گویا وہ عوام کو فوج کے خلاف بغاوت پر اکسا رہے تھے۔

اس خطاب کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے وکلاء رہنماء علی احمد کرد کی عدلیہ پر تنقید کے جواب میں کہا کہ وہ علی احمد کرد کے موقف سے متفق نہیں، انتشار مت پھیلائیں، کسی کی جرات نہیں عدلیہ پر دباؤ ڈالے، کسی سے کبھی ڈکٹیشن نہیں لی۔ کبھی کسی ادارے کی بات سنی اور نہ کبھی ادارے کا دباؤ لیا، مجھے کسی نے نہیں بتایا کہ فیصلہ کیسے لکھوں، کسی کو مجھ سے ایسے بات کرنے کی کوئی جرات نہیں ہوئی۔ کسی نے میرے کام میں مداخلت نہیں کی، اپنے فیصلے اپنی سمجھ اور آئین و قانون کی سمجھ کے مطابق کیے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لوگوں کو غلط باتیں نہ بتائیں، انتشار نہ پھیلائیں، اداروں کے اوپر سے لوگوں کا بھروسہ نہ اٹھائیں۔ پاکستان میں (کسی) انسان کی نہیں قانون کی حکمرانی ہے۔ ہم جس طرح سے کام کر رہے ہیں، کرتے رہیں گے، ملک میں آئین و قانون اور جمہوریت کی حمایت کریں گے اور اسی کا پرچار کریں گے، کسی غیر جمہوری سیٹ اپ کو قبول نہیں کریں گے۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماء محسن داوڑ نے آئین مخالف تقریر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا آئین ہی اصل فساد کی جڑ ہے، کئی ماہ سے الیکٹرونک میڈٖیا پر آف ائیر رہنے والے حامد میر بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے، آزادی صحافت کے نام نہاد علمبردار حامد میر نے پاکستان کے آرمی چیف کو کھلے الفاظ میں بدترین انجام کی دھمکی دی اور اپنی تقریر میں کہا کہ آج بھی ایک آدمی گیا ہے، اگلے سال بھی ایک آدمی جائے گا، اس کا حشر بھی پرویز مشرف جیسا ہوگا۔ محسن داوڑ نے پاکستانی آئین مخالف اور صوبائیت کے فساد کو بڑھاوا دینے کیلئے اپنی تقریر میں کہا کہ پنجابی روڈ پہ آتے ہیں، یعنی تحریک لبیک کے افراد تو ہماری اسٹیبلشمنٹ ان کے آگے بے بس ہو جاتی ہے، لہذاٰ ہم بھی ہتھیار اٹھائیں گے۔ گویا یہ محسن داوڑ کی طرف سے ہتھیار اٹھا کر بغاوت کی کھلی دھمکی ہے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے آخری سیشن سے آن لائن خطاب کیا۔ مگر جیسے ہی نواز شریف نے اپنی تقریر شروع کی تو کچھ ہی دیر بعد اس نجی ہوٹل کے ہال میں انٹرنیٹ سروس اچانک معطل ہوگئی۔ نواز شریف نے کہا کہ آج 74 برسوں کے بعد قوم پھر سے سوال اٹھا رہی ہے اور ہمیں جواب درکار ہے۔ قوم کو جواب درکار ہے۔ پاکستان کے 22 کروڑ عوام کو اس کا جواب درکار ہے اور جب تک اس کا جواب نہیں ملے گا تو ہماری حالت نہیں سدھرے گی۔ انٹرنیٹ کی معطلی پر انہوں نے کہا کہ آج بھی زبان کھینچی گئی ہے ناں، تاریں وغیرہ کاٹ کر۔ انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری نے کانفرنس کے انعقاد پر اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب کانفرنس کے منتظمین ایک مجرم کو خطاب کے لیے بلاتے ہیں تو ان کا سیاسی ایجنڈا واضح ہو جاتا ہے، یہ افسوس ناک ہے۔

وفاقی وزیر فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے موقف میں کہا کہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں مجھے مدعو کیا گیا تھا، لیکن مجھے بتایا گیا کہ کانفرنس کا اختتام ایک مفرور ملزم کی تقریر سے ہوگا، ظاہر ہے کہ یہ ملک اور آئین کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے، میں نے کانفرنس میں شرکت سے معذرت کر لی ہے۔ لاہور میں ہونے والی کانفرنس بظاہر تو انسانی حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر کی یاد آوری میں منائی گئی، مگر منظم انداز میں پاکستان کے اداروں، آئین پر تنقید اور صوبوں کی تقسیم کے ایجنڈا کو بڑھاوا دیا گیا۔ گویا ملک دشمن ریاست دشمن، فوج مخالف بیانیہ کو فروغ دینے کی ناکام کوشش کی گئی۔ نفرت پر مبنی تقریروں سے عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کہ پاکستان کے شہر لاہور کے نجی ہوٹل میں دو دن تک، آخر پاکستان کے اداروں کے خلاف تقاریر کیوں کی گئی ہیں۔؟

لاہور میں منعقدہ کانفرنس کے حوالے سے ایک تشویش ناک بات یہ بھی ہے کہ اس کی فنڈنگ کسی مقامی این جی او نے نہیں بلکہ غیر ملکی اداروں اور یورپی یونین نے کی تھی۔ ہال میں کانفرنس کے ان سپانسرز کے پینافلیکسز بھی نمایاں تھے،  بلاشبہ سپانسر کیا جاسکتا ہے لیکن ریاست مخالف کانفرنسز کو سپورٹ کرنے پر سفارتی سطح پر سوال اٹھایا جانا چاہیئے۔ اگر ان کے علم میں کانفرنس کا ایجنڈا تھا تو ایسے عمل کی اجازت کیوں دی گئی، اگر یہ لاعلمی میں ہوا تو ان کو جواب دہ ہونا پڑے گا۔
خبر کا کوڈ : 964824
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش