0
Wednesday 24 Nov 2021 02:12

سندھ حکومت کا افسران کے تبادلوں سے انکار، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے اظہار وجوہ کے نوٹس جاری

سندھ حکومت کا افسران کے تبادلوں سے انکار، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے اظہار وجوہ کے نوٹس جاری
اسلام ٹائمز۔ سندھ سے افسران کے تبادلے کا معاملہ مزید شدت اختیار کرگیا، وزیراعلی سندھ مرادعلی شاہ نے وزیراعظم عمران خان کو خط لکھ دیا، جس میں کہا گیا ہے کہ صوبائی کابینہ نے سندھ میں تعینات 5 افسران کے تبادلوں سے انکار کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وفاق اور سندھ کے درمیان افسران کے تبادلوں کا معاملہ حل نہ ہوسکا، وزیراعلی مرادعلی شاہ نے سندھ کابینہ کے فیصلے سے وزیراعظم کو آگاہ کر دیا ہے۔ ایک دوسرے کو خطوط کا سلسلہ بھی جاری ہے وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے وزیراعظم عمران خان کو خط کے ذریعے اپنی اور سندھ کابینہ کی تشویش سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کے زیر انتظام کام کرنے والے افسر کو کسی بڑے عہدے پر وزیراعلی کی منظوری کے بغیر تعینات نہیں کیا جا سکتا۔

خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ مشاورت کا مطلب وزیراعلی کو افسران کے نام کا پینل بھیجنا ہے۔ مرادعلی شاہ نے کہا کہ بامعنی مشاورت وزیراعظم اور وزیراعلی کے درمیان ہونی ہے۔ وفاقی حکومت سے متعدد مرتبہ رجوع کیا کہ سندھ میں افسران کی کمی کو پورا کریں۔ مراد علی شاہ نے خط میں کہا ہے کہ سول سروس آف پاکستان میں شامل افسران کے تبادلے رولز کی شق 15 کے تحت ہونا ہیں۔ سندھ میں 26 پولیس افسران کے بجائے 22 اور ایڈمنسٹریٹو سروس کے 47 افسران کم ہیں، گریڈ 20 کے پولیس افسران کو سندھ سے واپس بلانے سے انتتظامی مسائل پیدا ہوں گے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے کیے گئے ٹرانسفر نوٹیفیکیشن کو سندھ کابینہ نے مسترد کردیا ہے۔ سندھ میں تعینات سینئر پولیس افسران ثاقب اسماعیل، مقصود میمن، عمرشاہد، نعیم شیخ اور نعمان صدیقی کے ٹرانسفر فیصلوں کو تسلیم نہیں کرتے۔ وزیراعظم صاحب ازراہ کرم سندھ حکومت کے ردعمل کو قبول کرلیں۔

وزیراعلی سندھ نے خط میں کہا کہ ہم پولیس سروس کے 4 افسران محمد کریم خان، شہزاد اکبر، محمد زبیر دریشک اور سید خرم علی کو سندھ میں تعینات کرنے کی تجویز منظور کرتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو احکامات دیے جائیں کہ سندھ کی تجاویز پر نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔ گریڈ 17 سے گریڈ 21 کے افسران کی مقررہ تعداد کے مطابق سندھ میں تعیناتی کے احکامات بھی دیں۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ سرکاری افسران کے تبادلوں سے قانون کی خلاف ورزی کی گئی، تبادلوں کے لیے وزیراعظم نے وزیراعلی سے مشاورت نہیں کی۔ سندھ میں پہلے ہی سرکاری افسران کی تعداد کم ہے۔ سندھ میں 20 گریڈ کے 22 افسران کام کررہے ہیں جبکہ 20 گریڈ کے پولیس افسران کی تعداد 26 ہونی چاہیئے۔
خبر کا کوڈ : 965134
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش